حساب کیسے ہوتا ہے
- عام فی گھنٹہ اجرت = ماہانہ تنخواہ ÷ مہینے کے گھنٹے (48 × 52 ÷ 12 = 208، یا آپ کے درج کردہ)۔
- اوور ٹائم = فی گھنٹہ اجرت × 2 × اوور ٹائم کے گھنٹے۔
- پنجاب میں عام تعطیل کا کام: فی گھنٹہ اجرت × 3 × گھنٹے۔
مثال (پنجاب): ماہانہ تنخواہ 52,000 روپے، مہینے میں 10 گھنٹے اوور ٹائم اور عام تعطیل پر 4 گھنٹے کام۔ فی گھنٹہ اجرت 250 روپے ہے۔ اوور ٹائم 5,000 روپے اور تعطیل کا کام 3,000 روپے، کل 8,000 روپے۔ اسلام آباد کی فیکٹری میں صرف 10 گھنٹے اوور ٹائم کے 5,000 روپے بنتے ہیں۔
تنخواہ کے لحاظ سے فی گھنٹہ اوور ٹائم (208 گھنٹے کا مہینہ)
| ماہانہ تنخواہ | عام فی گھنٹہ | اوور ٹائم (2×) | پنجاب تعطیل (3×) |
|---|---|---|---|
| 37,000 روپے | 177.88 روپے | 355.77 روپے | 533.65 روپے |
| 50,000 روپے | 240.38 روپے | 480.77 روپے | 721.15 روپے |
| 75,000 روپے | 360.58 روپے | 721.15 روپے | 1,081.73 روپے |
| 100,000 روپے | 480.77 روپے | 961.54 روپے | 1,442.31 روپے |
قانون کم از کم حق مقرر کرتا ہے؛ اگر آپ کا کنٹریکٹ زیادہ دیتا ہے تو وہ لاگو ہوگا۔ فیکٹریز قوانین کے تحت پیس ریٹ پر کام کرنے والوں کے لیے حکومت اس مقصد کے لیے برابر کا ٹائم ریٹ مقرر کر سکتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان میں اوور ٹائم کا ریٹ کیا ہے؟
عام اجرت کا دگنا۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 (دفعہ 47) اور سندھ فیکٹریز ایکٹ 2015 (دفعہ 68) کے تحت روزانہ 9 گھنٹے یا ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ ہر گھنٹے کا دگنا ملتا ہے۔ پنجاب لیبر کوڈ 2026 (دفعہ 179) اوور ٹائم اور ہفتہ وار چھٹی کے دن کام پر عام فی گھنٹہ اجرت کا دو گنا، اور عام تعطیل کے دن کام پر تین گنا دیتا ہے۔
ماہانہ تنخواہ سے فی گھنٹہ اجرت کیسے نکالیں؟
قانون میں کوئی فارمولا نہیں۔ یہ کیلکولیٹر ماہانہ تنخواہ کو ہفتے میں 48 گھنٹے کے حساب سے مہینے کے اوسط گھنٹوں سے تقسیم کرتا ہے: 48 × 52 ÷ 12 = 208 گھنٹے۔ 52,000 روپے پر یہ 250 روپے فی گھنٹہ بنتا ہے، یعنی اوور ٹائم 500 روپے فی گھنٹہ۔ اگر آپ کا کنٹریکٹ کسی اور طریقے سے حساب کرتا ہے تو اس کے مطابق مہینے کے گھنٹے درج کریں۔
عام اوقاتِ کار کتنے ہیں؟
پنجاب لیبر کوڈ کے تحت روزانہ 8 گھنٹے یا ہفتے میں 48 گھنٹے (موسمی ادارے میں روزانہ 9 یا ہفتے میں 50)۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 اور سندھ فیکٹریز ایکٹ کے تحت بالغ فیکٹری ورکر روزانہ زیادہ سے زیادہ 9 گھنٹے اور ہفتے میں 48 گھنٹے (موسمی فیکٹری میں 50) کام کر سکتا ہے۔
آجر کتنا اوور ٹائم کروا سکتا ہے؟
پنجاب میں اوور ٹائم کے لیے آپ کی رضامندی ضروری ہے اور یہ روزانہ 2 گھنٹے یا ہفتے میں 8 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ ہفتے میں پانچ دن کام والی جگہ چیف انسپکٹر کی منظوری سے روزانہ 10 گھنٹے تک بغیر اوور ٹائم کے کام لے سکتی ہے، بشرطیکہ ہفتے کے کل گھنٹے 48 سے زیادہ نہ ہوں۔
کیا یہ دکانوں، دفاتر اور سرکاری ملازمتوں پر بھی لاگو ہے؟
پنجاب لیبر کوڈ پنجاب میں تقریباً تمام کام کی جگہوں پر لاگو ہے، سوائے سرکاری ملازمین (سول سرونٹس)، مسلح افواج اور پولیس کے۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 اور سندھ فیکٹریز ایکٹ صرف فیکٹریوں پر لاگو ہیں؛ دکانیں اور دفاتر الگ قوانین کے تحت آتے ہیں جو یہاں شامل نہیں، اور سرکاری ملازمین اپنے سروس رولز کے پابند ہیں۔
رہنمائی
متعلقہ کیلکولیٹر
- تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹربجٹ 2026-27 کے تحت اپنا ماہانہ انکم ٹیکس اور ہاتھ میں آنے والی تنخواہ معلوم کریں، اور دیکھیں کہ 2025-26 کے مقابلے میں کتنی بچت ہوئی۔
- گریجویٹی کیلکولیٹرآخری تنخواہ اور ملازمت کے سالوں سے پاکستان میں ملازمت ختم ہونے پر ملنے والی گریجویٹی کا حساب لگائیں۔
- پنشن کیلکولیٹرآخری تنخواہ، ملازمت کی مدت اور عمر سے وفاقی سرکاری ملازم کی ماہانہ پنشن اور کمیوٹیشن کی یکمشت رقم کا اندازہ لگائیں۔
ذرائع
- پنجاب لیبر کوڈ 2026 (ایکٹ نمبر 9 بابت 2026)، دفعات 176 اور 179
- سندھ فیکٹریز ایکٹ 2015 (سندھ ایکٹ نمبر 13 بابت 2016)، دفعات 54، 57 اور 68
- فیکٹریز ایکٹ 1934، دفعات 34، 36 اور 47 (پاکستان کوڈ)
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔