ہوم ‹ ٹیکس اور تنخواہ

اوور ٹائم کیلکولیٹر پاکستان

اپنی ماہانہ تنخواہ اور اضافی گھنٹوں سے معلوم کریں کہ آپ کو کتنا اوور ٹائم ملنا چاہیے، اس ریٹ پر جو آپ کے کام کی جگہ کا لیبر قانون مقرر کرتا ہے: پنجاب لیبر کوڈ 2026، سندھ فیکٹریز ایکٹ 2015 یا فیکٹریز ایکٹ 1934۔

مثال:
روپے
آپ کی عام تنخواہ اور باقاعدہ الاؤنسز۔ قانون میں رہائش اور سہولیات کی مالیت، پراویڈنٹ یا پنشن فنڈ میں آجر کا حصہ، سفری الاؤنس، گریجویٹی، بونس اور منافع میں حصہ شامل نہیں۔
گھنٹے
عام حد سے زیادہ گھنٹے: روزانہ 8 (پنجاب) یا 9 (فیکٹریز قوانین)، یا ہفتے میں 48۔ پنجاب میں ہفتہ وار چھٹی کے دن کا کام بھی یہیں شامل کریں۔
گھنٹے
پنجاب میں عام تعطیل کے دن کام کا تین گنا ملتا ہے۔ فیکٹریز قوانین میں تعطیل کا الگ ریٹ نہیں؛ اسے 0 رہنے دیں اور اوپر صرف حد سے زیادہ گھنٹے گنیں۔
گھنٹے
خالی چھوڑیں تو ⁦48 × 52 ÷ 12 = 208⁩ گھنٹے لیے جائیں گے۔ اگر آپ کا کنٹریکٹ کوئی اور تعداد مقرر کرتا ہے تو وہ درج کریں، مثلاً ⁦26 × 8⁩۔

اوور ٹائم کی ادائیگی

8,000 روپے

14 گھنٹے اوور ٹائم، 250 روپے فی گھنٹہ کے حساب سے

اوور ٹائم کب شروع ہوتا ہےروزانہ 8 گھنٹے یا ہفتے میں 48 گھنٹے کے بعد
عام فی گھنٹہ اجرت (تنخواہ ÷ 208 گھنٹے)250 روپے
اوور ٹائم ریٹ (⁦2×⁩)500 روپے (فی گھنٹہ اجرت کا ⁦2×⁩)
10 گھنٹے، ⁦2×⁩ پر5,000 روپے
عام تعطیل کے 4 گھنٹے، ⁦3×⁩ پر3,000 روپے
اوور ٹائم کی ادائیگی8,000 روپے

مکمل کیلکولیٹر پاک حساب پر کھولیں ↗

حساب کیسے ہوتا ہے

  1. عام فی گھنٹہ اجرت = ماہانہ تنخواہ ÷ مہینے کے گھنٹے (⁦48 × 52 ÷ 12 = 208⁩، یا آپ کے درج کردہ)۔
  2. اوور ٹائم = فی گھنٹہ اجرت ⁦× 2 ×⁩ اوور ٹائم کے گھنٹے۔
  3. پنجاب میں عام تعطیل کا کام: فی گھنٹہ اجرت ⁦× 3 ×⁩ گھنٹے۔

مثال (پنجاب): ماہانہ تنخواہ 52,000 روپے، مہینے میں 10 گھنٹے اوور ٹائم اور عام تعطیل پر 4 گھنٹے کام۔ فی گھنٹہ اجرت 250 روپے ہے۔ اوور ٹائم 5,000 روپے اور تعطیل کا کام 3,000 روپے، کل 8,000 روپے۔ اسلام آباد کی فیکٹری میں صرف 10 گھنٹے اوور ٹائم کے 5,000 روپے بنتے ہیں۔

تنخواہ کے لحاظ سے فی گھنٹہ اوور ٹائم (⁦208⁩ گھنٹے کا مہینہ)

ماہانہ تنخواہعام فی گھنٹہاوور ٹائم (⁦2×⁩)پنجاب تعطیل (⁦3×⁩)
37,000 روپے177.88 روپے355.77 روپے533.65 روپے
50,000 روپے240.38 روپے480.77 روپے721.15 روپے
75,000 روپے360.58 روپے721.15 روپے1,081.73 روپے
100,000 روپے480.77 روپے961.54 روپے1,442.31 روپے

قانون کم از کم حق مقرر کرتا ہے؛ اگر آپ کا کنٹریکٹ زیادہ دیتا ہے تو وہ لاگو ہوگا۔ فیکٹریز قوانین کے تحت پیس ریٹ پر کام کرنے والوں کے لیے حکومت اس مقصد کے لیے برابر کا ٹائم ریٹ مقرر کر سکتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں اوور ٹائم کا ریٹ کیا ہے؟

عام اجرت کا دگنا۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 (دفعہ 47) اور سندھ فیکٹریز ایکٹ 2015 (دفعہ 68) کے تحت روزانہ 9 گھنٹے یا ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ ہر گھنٹے کا دگنا ملتا ہے۔ پنجاب لیبر کوڈ 2026 (دفعہ 179) اوور ٹائم اور ہفتہ وار چھٹی کے دن کام پر عام فی گھنٹہ اجرت کا دو گنا، اور عام تعطیل کے دن کام پر تین گنا دیتا ہے۔

ماہانہ تنخواہ سے فی گھنٹہ اجرت کیسے نکالیں؟

قانون میں کوئی فارمولا نہیں۔ یہ کیلکولیٹر ماہانہ تنخواہ کو ہفتے میں 48 گھنٹے کے حساب سے مہینے کے اوسط گھنٹوں سے تقسیم کرتا ہے: ⁦48 × 52 ÷ 12 = 208⁩ گھنٹے۔ 52,000 روپے پر یہ 250 روپے فی گھنٹہ بنتا ہے، یعنی اوور ٹائم 500 روپے فی گھنٹہ۔ اگر آپ کا کنٹریکٹ کسی اور طریقے سے حساب کرتا ہے تو اس کے مطابق مہینے کے گھنٹے درج کریں۔

عام اوقاتِ کار کتنے ہیں؟

پنجاب لیبر کوڈ کے تحت روزانہ 8 گھنٹے یا ہفتے میں 48 گھنٹے (موسمی ادارے میں روزانہ 9 یا ہفتے میں 50)۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 اور سندھ فیکٹریز ایکٹ کے تحت بالغ فیکٹری ورکر روزانہ زیادہ سے زیادہ 9 گھنٹے اور ہفتے میں 48 گھنٹے (موسمی فیکٹری میں 50) کام کر سکتا ہے۔

آجر کتنا اوور ٹائم کروا سکتا ہے؟

پنجاب میں اوور ٹائم کے لیے آپ کی رضامندی ضروری ہے اور یہ روزانہ 2 گھنٹے یا ہفتے میں 8 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ ہفتے میں پانچ دن کام والی جگہ چیف انسپکٹر کی منظوری سے روزانہ 10 گھنٹے تک بغیر اوور ٹائم کے کام لے سکتی ہے، بشرطیکہ ہفتے کے کل گھنٹے 48 سے زیادہ نہ ہوں۔

کیا یہ دکانوں، دفاتر اور سرکاری ملازمتوں پر بھی لاگو ہے؟

پنجاب لیبر کوڈ پنجاب میں تقریباً تمام کام کی جگہوں پر لاگو ہے، سوائے سرکاری ملازمین (سول سرونٹس)، مسلح افواج اور پولیس کے۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 اور سندھ فیکٹریز ایکٹ صرف فیکٹریوں پر لاگو ہیں؛ دکانیں اور دفاتر الگ قوانین کے تحت آتے ہیں جو یہاں شامل نہیں، اور سرکاری ملازمین اپنے سروس رولز کے پابند ہیں۔

رہنمائی

متعلقہ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر اپنی ویب سائٹ پر لگائیں

بلاگز، فورمز اور کاروباری ویب سائٹس کے لیے مفت۔ یہ کوڈ وہاں لگائیں جہاں کیلکولیٹر دکھانا ہو۔ یہ خود بخود اپ ڈیٹ رہتا ہے۔

ذرائع

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔