پاکستان میں کم از کم اجرت 2026-27: سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد
سندھ میں یکم جولائی 2026 سے کم از کم اجرت 43,000 روپے ہے؛ پنجاب کی نوٹیفائیڈ شرح اب بھی 40,000 روپے ہے۔ ہر صوبہ، اجرت میں کیا شامل ہے، کم ملے تو کیا کریں۔
اوور ٹائم کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←
پاکستان میں پورے ملک کے لیے ایک کم از کم اجرت نہیں۔ ہر صوبہ اپنے قانون کے تحت اپنی شرح نوٹیفائی کرتا ہے، اور اسلام آباد کے لیے وفاق۔ بجٹ میں اعلان کے بعد نوٹیفکیشن کچھ ہفتوں یا مہینوں میں آتا ہے، اور شرح عموماً یکم جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ یہاں 15 اکتوبر 2026 تک کی صورتحال ہے، صرف ان شرحوں کے ساتھ جن کا سرکاری نوٹیفکیشن ہم نے خود دیکھا۔
ایک نظر میں
| علاقہ | غیر ہنرمند کارکن، ماہانہ | کب سے | حیثیت |
|---|---|---|---|
| سندھ | 43,000 روپے | یکم جولائی 2026 | 17 اگست 2026 کو نوٹیفائیڈ |
| پنجاب | 40,000 روپے | یکم جولائی 2025 | آخری نوٹیفکیشن؛ 2026-27 کا ابھی محکمے کی ویب سائٹ پر نہیں |
| خیبر پختونخوا | 45,000 روپے (تجویز) | — | بجٹ میں تجویز؛ نوٹیفکیشن ہمیں نہیں ملا |
| بلوچستان | — | — | 2026-27 کا نوٹیفکیشن ہمیں نہیں ملا |
| وفاقی سرکاری ملازمین | 40,700 روپے | یکم جولائی 2026 | فنانس ڈویژن، 21 اگست 2026 |
| اسلام آباد، نجی شعبہ | — | — | نوٹیفکیشن ہمیں آن لائن نہیں ملا |
جہاں نوٹیفکیشن نہیں ملا، وہاں اپنے صوبے کے محکمہ محنت یا ضلعی لیبر دفتر سے موجودہ شرح کی تصدیق کریں۔ نئی شرح نوٹیفائی ہونے پر ہم یہ صفحہ اپ ڈیٹ کریں گے۔
سندھ: 43,000 روپے
سندھ منیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت 17 اگست 2026 کے نوٹیفکیشن سے یکم جولائی 2026 سے غیر ہنرمند بالغ، نوعمر اور کم عمر کارکنوں کی کم از کم اجرت 43,000 روپے ماہانہ، 1,654 روپے یومیہ اور 207 روپے فی گھنٹہ ہے۔ اہم شرائط:
- تمام صنعتی اور تجارتی اداروں پر، رجسٹرڈ ہوں یا نہیں، پورے صوبے میں یکساں لاگو ہے۔
- مستقل، عارضی، کیژول، کنٹریکٹ، دیہاڑی دار اور پیس ریٹ، سب کارکنوں پر برابر لاگو ہے۔ پیس ریٹ والے کی کمائی بھی وقت کی کم از کم شرح کے برابر ہونی چاہیے۔
- شرحیں دن کے 8 اور ہفتے کے 48 گھنٹوں کے لیے ہیں۔ خواتین کو اسی کام کی مردوں کے برابر اجرت ملے گی۔
- جو کارکن پہلے سے زیادہ اجرت لے رہے ہیں ان کی اجرت کم نہیں کی جا سکتی۔ اجرت کراسڈ چیک یا بینک ٹرانسفر سے دی جانی چاہیے۔
- سرکاری اور نجی ادارے ٹھیکیدار کے ذریعے عملہ لیں تو کم از کم اجرت سے کم کا ٹھیکہ یا بولی قبول نہیں ہو سکتی۔
محکمہ محنت سندھ کے مطابق یکم جولائی 2026 سے نیم ہنرمند کی کم از کم اجرت 44,484 روپے، ہنرمند کی 53,350 روپے اور اعلیٰ ہنرمند کی 55,626 روپے ہے۔
پنجاب: 40,000 روپے، نئی شرح کا انتظار
15 اکتوبر 2026 تک محکمہ محنت پنجاب کی ویب سائٹ پر تازہ ترین نوٹیفکیشن 8 ستمبر 2025 کا ہے: یکم جولائی 2025 سے 40,000 روپے ماہانہ (26 کام کے دنوں کے لیے)، 1,538.46 روپے یومیہ (آٹھ گھنٹے) اور 192.31 روپے فی گھنٹہ۔ آجر اور کارکن کے معاہدے سے فراہم کردہ کھانے، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے بدلے محدود کٹوتی ہو سکتی ہے (تفصیل نیچے سوالات میں)۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026 نے پنجاب منیمم ویجز ایکٹ 2019 منسوخ کر دیا، مگر دفعہ 435(2) کے تحت پرانے قانون کے نوٹیفکیشن نئے کوڈ کے تحت نافذ رہتے ہیں جب تک بدلے نہ جائیں۔ کوڈ کی دفعہ 165(1) کے مطابق بنیادی اجرت کم از کم اجرت سے کم نہیں ہو سکتی، اور دفعات 223 اور 228 گھریلو اور ہوم بیسڈ کارکنوں کو بھی اس میں شامل کرتی ہیں۔
خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد
- خیبر پختونخوا: 19 جون 2026 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت 5,000 روپے بڑھا کر 45,000 روپے کرنے کی تجویز دی گئی (سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق)۔ بجٹ کی تجویز قانونی شرح نہیں؛ اس کے لیے نوٹیفکیشن ضروری ہے، جو 15 اکتوبر 2026 تک ہمیں محکمہ محنت کی ویب سائٹ پر نہیں ملا۔
- بلوچستان: 2026-27 کا کوئی نوٹیفکیشن ہمیں سرکاری ویب سائٹ پر نہیں ملا۔
- وفاقی حکومت: فنانس ڈویژن نے یکم جولائی 2026 سے تمام وفاقی سرکاری ملازمین، دفاعی بجٹ سے تنخواہ پانے والے سویلین، کنٹیجنٹ عملے اور بنیادی اسکیل پر کنٹریکٹ ملازمین کی کم از کم تنخواہ 37,000 سے بڑھا کر 40,700 روپے کر دی۔ جن کی کل تنخواہ کم ہو انہیں فرق خصوصی الاؤنس کی صورت میں ملتا ہے۔ اسلام آباد کے نجی اداروں کے لیے الگ نوٹیفکیشن ہمیں آن لائن نہیں ملا۔
کم از کم اجرت میں کیا شمار ہوتا ہے
- سندھ: کم از کم اجرت ایک یقینی حد ہے۔ کوئی متغیر ادائیگی، حاضری بونس، پیداواری ترغیب، غیر لازمی الاؤنس، فلاحی سہولت یا غیر یقینی ادائیگی اس میں شامل یا اس سے منہا نہیں کی جا سکتی۔ مکان کا کرایہ، کنوینس، طبی سہولت، گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ جیسے موجودہ فوائد بھی جاری رہیں گے۔
- پنجاب: بنیادی اجرت خود کم از کم اجرت کے برابر یا زیادہ ہونی چاہیے، اس لیے الاؤنسز جوڑ کر کم از کم پوری کرنا درست نہیں۔
- اوور ٹائم: مقررہ گھنٹوں سے زائد کام کی ادائیگی الگ ہے؛ اوور ٹائم کیلکولیٹر دیکھیں۔
- جز وقتی کام: یومیہ یا فی گھنٹہ شرح لگتی ہے۔ سندھ میں مہینے کے 20 دن کام پر کم از کم 20 × 1,654 = 33,080 روپے۔
مثال: کتنا بقایا بنتا ہے
کراچی کی ایک فیکٹری میں غیر ہنرمند کارکن کو جولائی سے ستمبر 2026 تک 38,000 روپے ماہانہ ملے۔ کم از کم اجرت 43,000 روپے ہے، اس لیے ہر ماہ 5,000 روپے کم ملے، اور 3 ماہ کا بقایا 15,000 روپے بنتا ہے۔ اتنی آمدنی پر انکم ٹیکس 0 روپے ہے، اس لیے یہ پوری رقم کارکن کی ہے۔
کم اجرت ملے تو کیا کریں
- ثبوت رکھیں: تقرر نامہ، سیلری سلپ، بینک اسٹیٹمنٹ اور حاضری کا ریکارڈ۔ پنجاب میں دفعہ 165(15) کے تحت آجر ہر ماہ تفصیلی سیلری سلپ دینے کا پابند ہے؛ اسے پڑھنے کے لیے ہماری سیلری سلپ کی رہنمائی دیکھیں۔
- تحریری مطالبہ: آجر کو نوٹیفکیشن کا حوالہ دے کر فرق اور بقایا ادا کرنے کی تحریری درخواست دیں اور اس کی نقل رکھیں۔
- پنجاب: کم از کم اجرت سے کم ادائیگی کے دعوے پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی سنتی ہے (دفعہ 293)، جسے دیوانی عدالت کے اختیارات حاصل ہیں۔ دفعہ 380 کے تحت عدالت آجر کو جرمانے کے علاوہ کم ادا کی گئی رقم کا فرق ادا کرنے کا حکم دیتی ہے؛ مقدمہ کارکن، یونین یا لیبر انسپکٹر شروع کر سکتا ہے۔
- سندھ: محکمہ محنت و افرادی قوت (تغلق ہاؤس، کراچی، فون 021-99211551) یا اپنے ضلع کے لیبر دفتر میں شکایت کریں۔
- دیگر: اپنے صوبے کے محکمہ محنت یا ضلعی لیبر افسر سے رابطہ کریں، یا پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرائیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا کم از کم اجرت 8 گھنٹے کے دن کی ہے؟
جی ہاں۔ سندھ کی شرحیں دن میں 8 اور ہفتے میں 48 گھنٹے کے لیے ہیں، اور پنجاب کی یومیہ شرح آٹھ گھنٹے کام کی ہے اور ماہانہ شرح 26 کام کے دنوں پر مبنی ہے۔ اس سے زیادہ گھنٹے اوور ٹائم ہیں جن کی ادائیگی زیادہ شرح پر ہوتی ہے؛ حساب اوور ٹائم کیلکولیٹر پر لگائیں۔
کیا آجر حاضری بونس کو کم از کم اجرت میں گن سکتا ہے؟
سندھ میں نہیں۔ 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق کوئی متغیر ادائیگی، حاضری بونس، پیداواری ترغیب، غیر لازمی الاؤنس یا فلاحی سہولت کم از کم اجرت میں شمار نہیں ہو سکتی؛ کم از کم اجرت ان ادائیگیوں کے علاوہ یقینی حد ہے۔ پنجاب میں لیبر کوڈ کی دفعہ 165(1) کہتی ہے کہ آپ کی بنیادی اجرت ہی نوٹیفائیڈ کم از کم سے کم نہیں ہو سکتی۔
کیا گھریلو ملازمین کو بھی کم از کم اجرت ملتی ہے؟
پنجاب میں جی ہاں۔ لیبر کوڈ 2026 کی دفعہ 223 کے مطابق گھر میں رہنے والے اور کل وقتی گھریلو ملازم کو نوٹیفائیڈ کم از کم اجرت سے کم نہیں دیا جا سکتا، اور جز وقتی ملازم کو ہر گھنٹے کی کم از کم شرح سے کم نہیں۔ گھر بیٹھے کام کرنے والے (ہوم بیسڈ) ورکرز بھی شامل ہیں (دفعہ 228)۔
کیا کم از کم اجرت پر انکم ٹیکس کٹتا ہے؟
نہیں۔ 43,000 روپے ماہانہ کا مطلب 516,000 روپے سالانہ ہے، جو 2026-27 میں تنخواہ پر ٹیکس شروع ہونے کی حد (6 لاکھ روپے سالانہ) سے کم ہے، اس لیے ٹیکس 0 روپے ہے۔ کوئی بھی تنخواہ تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹر پر چیک کریں۔
کیا آجر کھانے یا رہائش کے پیسے کاٹ سکتا ہے؟
پنجاب میں 2025 کا نوٹیفکیشن کھانے، ٹرانسپورٹ اور رہائش کی اصل فراہم کردہ سہولت کے بدلے کٹوتی کی اجازت دیتا ہے، صرف آجر اور ملازم کے معاہدے سے، اور زیادہ سے زیادہ 100 روپے فی کھانا، 1,800 روپے ماہانہ ٹرانسپورٹ اور 2,000 روپے ماہانہ رہائش۔ باقی کٹوتیاں صرف وہی ہو سکتی ہیں جن کی لیبر کوڈ اجازت دیتا ہے، جیسے ٹیکس اور قانونی کنٹری بیوشن۔
اس رہنمائی کے کیلکولیٹر
- اوور ٹائم کیلکولیٹرماہانہ تنخواہ اور اضافی گھنٹوں سے قانونی ریٹ پر اوور ٹائم نکالیں: فیکٹریز ایکٹ اور سندھ فیکٹریز ایکٹ میں دگنا، پنجاب لیبر کوڈ 2026 میں دو یا تین گنا۔
- تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹربجٹ 2026-27 کے تحت اپنا ماہانہ انکم ٹیکس اور ہاتھ میں آنے والی تنخواہ معلوم کریں، اور دیکھیں کہ 2025-26 کے مقابلے میں کتنی بچت ہوئی۔
- تنخواہ اضافہ اور نوکری پیشکش کیلکولیٹر2026-27 کے ٹیکس کے بعد تنخواہ کے اضافے یا نئی نوکری سے اضافی آمدنی، مہنگائی کے بعد اصل اضافہ اور مہنگائی کے برابر رہنے کے لیے درکار تنخواہ دیکھیں۔
ذرائع
- حکومتِ سندھ، محکمہ محنت و افرادی قوت: نوٹیفکیشن نمبر SO(L-II)/13-3/2016-II مورخہ 17 اگست 2026، یکم جولائی 2026 سے کم از کم اجرت 43,000 روپے ماہانہ (سندھ منیمم ویجز ایکٹ 2015)
- محکمہ محنت سندھ: یکم جولائی 2026 سے غیر ہنرمند، نیم ہنرمند، ہنرمند اور اعلیٰ ہنرمند کارکنوں کی کم از کم اجرت
- حکومتِ پنجاب، محکمہ محنت و انسانی وسائل: نوٹیفکیشن نمبر SO(L&P) MW/2024 مورخہ 8 ستمبر 2025 (پنجاب گزٹ، 9 ستمبر 2025)، یکم جولائی 2025 سے 40,000 روپے ماہانہ
- محکمہ محنت پنجاب: کم از کم اجرت کے نوٹیفکیشن کا صفحہ (15 اکتوبر 2026 کو دیکھا گیا)
- پنجاب لیبر کوڈ 2026 (ایکٹ نمبر 9 برائے 2026): دفعات 165، 167، 168، 223، 228، 293، 380 اور 435
- فنانس ڈویژن آفس میمورنڈم نمبر 1(2)R5/2022-PT-0001 مورخہ 21 اگست 2026: یکم جولائی 2026 سے وفاقی سرکاری ملازمین کی کم از کم اجرت 40,700 روپے
- ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، 19 جون 2026: خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 میں 45,000 روپے کم از کم اجرت کی تجویز
یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔