گاڑی کی درآمد پر کون کون سے ٹیکس لگتے ہیں
درآمدی گاڑی پر ایک نہیں بلکہ کئی ڈیوٹیاں اور ٹیکس ایک کے بعد ایک لگتے ہیں، اور ہر اگلا ٹیکس پچھلی رقموں سمیت قیمت پر لگتا ہے۔ اسی لیے کل ڈیوٹی اکثر گاڑی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ کیلکولیٹر ایک مکمل تیار (سی بی یو) کار، ایس یو وی یا منی وین (ہیڈنگ 87.03) کے لیے ہے۔ حتمی ڈیوٹی وہی ہے جو کسٹمز اپنی ویلیوایشن اور اسیسمنٹ کے بعد طے کرے؛ یہ صرف اندازہ ہے۔
حساب کا طریقہ
- کسٹمز قیمت روپوں میں = ڈالر میں قیمت × شرحِ تبادلہ۔ استعمال شدہ گاڑی پر ہر مکمل مہینے کے لیے 1% فرسودگی، زیادہ سے زیادہ 60%۔
- کسٹمز ڈیوٹیاں = قیمت × (کسٹمز ڈیوٹی + ریگولیٹری ڈیوٹی + ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی)۔ کمرشل استعمال شدہ درآمد پر 30% اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی۔
- ایکسائز ڈیوٹی اور اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی = (قیمت + کسٹمز ڈیوٹیاں) × شرح۔
- سیلز ٹیکس (25%) اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس (3%) = (قیمت + کسٹمز ڈیوٹیاں + ایکسائز) × شرح۔ 850cc تک ویلیو ایڈیشن ٹیکس نہیں۔
- انکم ٹیکس دفعہ 148 = اب تک کی کل رقم × 5.5% (نان فائلر 11%، کمرشل درآمد کنندہ 6%)۔
- 1300cc سے بڑی گاڑی پر سب ڈیوٹیوں سمیت قیمت کا 1% کیپیٹل ویلیو ٹیکس۔
مثال: نئی 1300cc گاڑی
کسٹمز قیمت US$20,000، 276.85 روپے فی ڈالر، فائلر۔ قیمت 5,537,000 روپے؛ کسٹمز ڈیوٹی 2,214,800 روپے، ریگولیٹری ڈیوٹی 442,960 روپے، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی 221,480 روپے؛ ایکسائز ڈیوٹی 841,624 روپے؛ سیلز ٹیکس 2,314,466 روپے اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس 277,736 روپے؛ انکم ٹیکس 651,754 روپے۔ کل 6,964,820 روپے، یعنی بندرگاہ پر گاڑی کی کل لاگت تقریباً 12,501,820 روپے۔ نان فائلر کے لیے کل 7,616,573 روپے۔
انجن کے حساب سے ڈیوٹی (نئی گاڑی، US$20,000)
| انجن | کسٹمز ڈیوٹی | ریگولیٹری ڈیوٹی | ایکسائز (کل) | کل ڈیوٹی اور ٹیکس | قیمت کا حصہ |
|---|---|---|---|---|---|
| 660cc | 30% | 0% | 2.5% | 4,192,807 روپے | 76% |
| 1,000cc | 35% | 8% | 2.5% | 5,729,218 روپے | 103% |
| 1,300cc | 40% | 8% | 10% | 6,964,820 روپے | 126% |
| 1,500cc | 40% | 8% | 10% | 7,089,838 روپے | 128% |
| 1,800cc | 45% | 8% | 30% | 9,876,502 روپے | 178% |
| 2,000cc | 50% | 20% | 116% | 22,846,198 روپے | 413% |
| 2,500cc | 50% | 20% | 116% | 22,846,198 روپے | 413% |
| 3,500cc | 50% | 20% | 132% | 24,948,657 روپے | 451% |
2000cc سے اوپر نئی اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی وجہ سے ڈیوٹی تیزی سے بڑھتی ہے: US$40,000 کی 2500cc گاڑی پر تقریباً 45,692,396 روپے، یعنی قیمت کا 413%۔
گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس: مقررہ ڈالر رقم
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی (دوہری شہریت والے بھی) تین سال تک پرانی کار گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت منگوا سکتے ہیں۔ 1800cc تک کی ایشیائی ساختہ کاروں پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی جگہ یہ مقررہ رقم لگتی ہے، جو ہر مہینے 1% کم ہوتی ہے:
| انجن (cc) | مقررہ رقم | 24 ماہ پرانی گاڑی، 276.85 روپے فی ڈالر |
|---|---|---|
| ≤ 800 | US$4,800 | 1,009,949 روپے |
| 801–1000 | US$6,000 | 1,262,436 روپے |
| 1001–1300 | US$13,200 | 2,777,359 روپے |
| 1301–1500 | US$18,590 | 3,911,448 روپے |
| 1501–1600 | US$22,550 | 4,744,655 روپے |
| 1601–1800 | US$27,940 | 5,878,744 روپے |
مثال: دو سال پرانی 1000cc کار پر US$6,000 کا 76%، یعنی US$4,560، جو 276.85 روپے فی ڈالر پر 1,262,436 روپے بنتے ہیں۔ کسٹمز اس کے علاوہ اپنی مقرر کردہ قیمت پر ریگولیٹری ڈیوٹی (1300cc سے بڑی استعمال شدہ گاڑی پر 8%)، ایکسائز ڈیوٹی یا کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگا سکتا ہے، جو یہ کیلکولیٹر شامل نہیں کرتا۔ 1800cc سے بڑی، غیر ایشیائی ساخت یا الیکٹرک گاڑیاں ان اسکیموں میں بھی عام شرحوں پر اسیس ہوتی ہیں (کمرشل 30% کے بغیر)۔
استعمال شدہ ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیاں
30 ماہ پرانی 1800cc ہائبرڈ، جس کی نئی قیمت US$25,000 ہو، کمرشل درآمد میں 30% فرسودگی کے بعد 4,844,875 روپے پر اسیس ہو گی اور کل ڈیوٹی تقریباً 11,295,170 روپے بنے گی۔ ہائبرڈ پر 1800cc سے اوپر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی 8% ہے، پیٹرول گاڑی کی طرح 20% نہیں۔ الیکٹرک گاڑی کے لیے انجن کی جگہ بیٹری کا سائز درج کریں۔
یہ کیلکولیٹر کیا شامل نہیں کرتا
- ہائبرڈ گاڑیوں پر ایس آر او 499(I)/2013 کی رعایت، سفارتی، معذور افراد کے لیے اور دیگر خصوصی رعایتیں۔
- گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس کی گاڑی پر مقررہ رقم کے علاوہ لگنے والی ڈیوٹیاں، جیپیں، اور مقامی طور پر اسمبل شدہ (سی کے ڈی) گاڑیاں۔
- بندرگاہ کے چارجز، کلیئرنگ ایجنٹ کی فیس، کرایہ اور رجسٹریشن۔ رجسٹریشن کا خرچ گاڑی رجسٹریشن کیلکولیٹر سے دیکھیں؛ درآمد پر دفعہ 148 کا ٹیکس ادا ہو تو رجسٹریشن پر دفعہ 231B کا ایڈوانس ٹیکس دوبارہ نہیں لگتا۔
دوسرے سامان پر ڈیوٹی کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کیلکولیٹر اور موبائل فون کے لیے پی ٹی اے ٹیکس کیلکولیٹر دیکھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
2026-27 میں 1300cc گاڑی پر درآمدی ڈیوٹی کتنی ہے؟
نئی 1300cc پیٹرول گاڑی جس کی کسٹمز قیمت US$20,000 ہو، 276.85 روپے فی ڈالر پر، تقریباً 6,964,820 روپے ڈیوٹی اور ٹیکس بنتے ہیں، یعنی قیمت کا 126%۔ اس میں 40% کسٹمز ڈیوٹی، 8% ریگولیٹری ڈیوٹی، 4% ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی، 10% ایکسائز ڈیوٹی، 25% سیلز ٹیکس اور 3% ویلیو ایڈیشن ٹیکس، اور فائلر کے لیے 5.5% انکم ٹیکس شامل ہے۔
2026-27 کے بجٹ میں درآمدی گاڑیوں کے لیے کیا بدلا؟
سب سے بڑی تبدیلی فنانس ایکٹ 2026 کی نئی اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی ہے: 2000cc سے 3000cc تک کی درآمدی گاڑیوں پر 86% اور اس سے بڑی پر 92%۔ یہ پہلے سے موجود 30% یا 40% فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے علاوہ ہے، اس لیے بڑے انجن والی گاڑیاں بہت مہنگی ہو گئیں۔ اسی ایکٹ نے US$75,000 سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگا دی۔ 2026-27 میں انجن کے حساب سے کسٹمز ڈیوٹی 30% سے 50%، 1800cc تک کی زیادہ تر گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 8% اور اس سے بڑی پر 20%، اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی 4% ہے۔
گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی تین سال تک پرانی استعمال شدہ گاڑی بھیج یا لا سکتے ہیں۔ 1800cc تک کی ایشیائی ساختہ گاڑیوں (جیپ کے علاوہ) پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی جگہ ڈالر میں ایک مقررہ رقم لگتی ہے، 800cc تک US$4,800 سے 1601-1800cc کے لیے US$27,940 تک، اور گاڑی کی عمر کے ہر مہینے پر 1% کمی ہوتی ہے۔ ڈیوٹی بیرونِ ملک سے بھیجے گئے زرِ مبادلہ سے ادا کرنا ضروری ہے۔
استعمال شدہ گاڑی کی کمرشل درآمد مہنگی کیوں ہے؟
فروخت کے لیے کمرشل طور پر درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر ایس آر او 1065(I)/2026 کے تحت عام ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ 30% اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی لگتی ہے، اور درآمد کنندہ 5.5% کے بجائے 6% کمرشل شرح سے انکم ٹیکس دیتا ہے۔ عمر کے حساب سے ہر ماہ 1% (زیادہ سے زیادہ 60%) فرسودگی اس قیمت کو کم کرتی ہے جس پر یہ سب شرحیں لگتی ہیں۔
کیا الیکٹرک گاڑی پر درآمدی ڈیوٹی کم ہے؟
ہاں۔ US$50,000 تک کی الیکٹرک گاڑی پر 25% کسٹمز ڈیوٹی لگتی ہے، ریگولیٹری اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی نہیں، US$75,000 سے کم پر ایکسائز ڈیوٹی نہیں، اور 50 kWh یا اس سے چھوٹی بیٹری پر سیلز ٹیکس 12.5% ہے۔ 60 kWh بیٹری والی US$40,000 کی الیکٹرک گاڑی پر 276.85 روپے فی ڈالر کے حساب سے تقریباً 6,773,350 روپے بنتے ہیں، کیونکہ بڑی بیٹری پر سیلز ٹیکس 18% اور 1% کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگتا ہے۔
کیا نان فائلر ہونے سے گاڑی کی ڈیوٹی بڑھتی ہے؟
صرف انکم ٹیکس بدلتا ہے: ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں نہ ہونے والوں کے لیے یہ 5.5% سے دگنا ہو کر 11% ہو جاتا ہے۔ 1300cc والی مثال میں کل رقم 6,964,820 روپے سے بڑھ کر 7,616,573 روپے ہو جاتی ہے۔ کسٹمز، ایکسائز اور سیلز ٹیکس سب کے لیے ایک جیسے ہیں۔
کسٹمز کی رقم مختلف کیوں ہو سکتی ہے؟
کسٹمز گاڑی کی قیمت اسی میک، ماڈل اور سال کی ویلیوایشن رولنگ سے لیتا ہے، گڈز ڈیکلریشن کے دن کے شرحِ تبادلہ پر تبدیل کرتا ہے اور عمر خود شمار کرتا ہے۔ کرایہ، انشورنس اور راؤنڈنگ سے بھی قیمت بدل سکتی ہے۔ سب سے قریب نتیجے کے لیے اپنی جی ڈی والی قیمت اور ریٹ درج کریں؛ حتمی رقم وہی ہے جو کسٹمز طے کرے۔
رہنمائی
متعلقہ کیلکولیٹر
- گاڑی رجسٹریشن کیلکولیٹرپنجاب، سندھ یا اسلام آباد میں نئی یا درآمد شدہ گاڑی کی 2026-27 رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس، دفعہ 231B اور 234 کا انکم ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور سندھ لگژری ٹیکس۔
- کسٹمز ڈیوٹی کیلکولیٹر2026-27 میں پاکستان درآمد کیے گئے سامان پر کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس معلوم کریں، کوریئر پارسل سے لیپ ٹاپ اور جوتوں تک۔
- ٹوکن ٹیکس کیلکولیٹرپنجاب، سندھ یا اسلام آباد میں کار یا موٹر سائیکل کا 2026-27 کا ٹوکن ٹیکس، لائف ٹائم ٹوکن اور فائلر و نان فائلر کے لیے دفعہ 234 کا انکم ٹیکس معلوم کریں۔
- کار لون کیلکولیٹرقیمت، ڈاؤن پیمنٹ، شرح اور مدت سے گاڑی کے قرض کی ماہانہ قسط، کل مارک اپ اور مکمل لاگت معلوم کریں، اسٹیٹ بینک کی حدوں کے مطابق۔
- پی ٹی اے ٹیکس کیلکولیٹردرآمد شدہ فون کا 2026-27 کا پی ٹی اے (ڈربس) ٹیکس پاسپورٹ یا شناختی کارڈ پر معلوم کریں: کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ہینڈ سیٹ لیوی۔
- کرنسی کنورٹرپاکستانی روپے کو امریکی ڈالر، سعودی ریال، اماراتی درہم، پاؤنڈ اور یورو میں اور ان سے روپے میں اپنے ملنے والے ریٹ پر بدلیں، اسٹیٹ بینک کے حوالہ ریٹ کے ساتھ۔
ذرائع
- پاکستان کسٹمز ٹیرف 2026-27 (ایف بی آر): کسٹمز ڈیوٹی، ہیڈنگ 87.03
- ایس آر او 1064(I)/2026، 30 جون 2026: ریگولیٹری ڈیوٹی (گاڑیاں، سیریل 584 تا 631)
- ایس آر او 1065(I)/2026، 30 جون 2026: استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 30% ریگولیٹری ڈیوٹی
- ایس آر او 1063(I)/2026، 30 جون 2026: ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی
- کسٹمز ایکٹ کا پانچواں شیڈول (30 جون 2026 تک): حصہ پنجم الف، الیکٹرک گاڑیاں
- فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 (30 جون 2026 تک): پہلا شیڈول سیریل 55 اور 55A، جدول IA اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی
- فنانس ایکٹ 2026 (گزٹ، 26 جون 2026): دفعہ 3(3B)، درآمدی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی
- سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 (30 جون 2026 تک): دفعہ 3، آٹھواں شیڈول سیریل 79، بارہواں شیڈول
- ایس آر او 297(I)/2023، 8 مارچ 2023: مکمل تیار (سی بی یو) گاڑیوں پر 25% سیلز ٹیکس
- ایس آر او 1525(I)/2026، 13 ستمبر 2026: ایس آر او 297(I)/2023 میں ترمیم (فنانس ڈویژن)
- انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 (30 جون 2026 تک): دفعہ 148، دفعہ 231B(4)، پہلا شیڈول حصہ دوم، دسواں اور بارہواں شیڈول
- ایف بی آر ود ہولڈنگ ٹیکس ریٹس کارڈ (30 جون 2026 تک)
- فنانس ایکٹ 2022، دفعہ 8: گاڑیوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس
- ایس آر او 577(I)/2005 (ترمیم شدہ): ایشیائی ساختہ استعمال شدہ گاڑیوں پر مقررہ ڈیوٹی اور ٹیکس
- ایف بی آر: گاڑیاں (درآمدی اسکیمیں، مقررہ ڈالر رقم، فرسودگی)
- ایف بی آر بروشر: گاڑیوں کی درآمد (قیمت اور فرسودگی کا طریقہ)
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔