ہوم ‹ ٹیکس اور تنخواہ

گاڑی کی درآمدی ڈیوٹی کیلکولیٹر پاکستان

⁦2026-27⁩ میں پاکستان میں نئی یا استعمال شدہ گاڑی درآمد کرنے پر کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کا اندازہ لگائیں، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں اور گفٹ و ٹرانسفر آف ریزیڈنس کی مقررہ ڈالر رقم سمیت۔

مثال:
گاڑی کیسے درآمد ہو رہی ہے
گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ہیں۔ استعمال شدہ گاڑی کی کمرشل درآمد پر ⁦30%⁩ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی لگتی ہے۔
انجن
cc
kWh
کسٹمز ہر ماڈل کے لیے اپنی ویلیوایشن رولنگ کی قیمت لگاتا ہے، آپ کی رسید والی نہیں۔ گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) پر لگائی گئی قیمت درج ہوتی ہے۔ گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس کی ⁦1800cc⁩ تک کی گاڑی کے لیے ضروری نہیں۔
روپے
یہ آپ خود بدل سکتے ہیں: گڈز ڈیکلریشن والا یا آج کا ریٹ درج کریں۔ پہلے سے درج ریٹ اسٹیٹ بینک کا تازہ ترین انٹربینک ریٹ ہے (22 اکتوبر 2026)۔
ماہ
تیاری کے سال کے بعد والی یکم جنوری سے بل آف لیڈنگ کی تاریخ تک۔ نئی گاڑی کے لیے شمار نہیں ہوتی۔

اس گاڑی پر ڈیوٹی اور ٹیکس

6,964,820 روپے

⁦1,300cc⁩ گاڑی، نئی، فائلر

کسٹمز ڈیوٹیاں ⁦41%⁩ایکسائز ڈیوٹیاں ⁦12%⁩سیلز ٹیکس ⁦37%⁩انکم ٹیکس اور سی وی ٹی ⁦9%⁩

روپوں میں کسٹمز قیمت5,537,000 روپے
کسٹمز ڈیوٹی (⁦40%⁩)2,214,800 روپے
ریگولیٹری ڈیوٹی (⁦8%⁩)442,960 روپے
ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (⁦4%⁩)221,480 روپے
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (⁦10%⁩)841,624 روپے
سیلز ٹیکس (⁦25%⁩)2,314,466 روپے
ویلیو ایڈیشن ٹیکس (⁦3%⁩)277,736 روپے
انکم ٹیکس، دفعہ 148 (⁦5.5%⁩)651,754 روپے
کل ڈیوٹی اور ٹیکس6,964,820 روپے
کسٹمز قیمت + ڈیوٹی اور ٹیکس12,501,820 روپے

مکمل کیلکولیٹر پاک حساب پر کھولیں ↗

گاڑی کی درآمد پر کون کون سے ٹیکس لگتے ہیں

درآمدی گاڑی پر ایک نہیں بلکہ کئی ڈیوٹیاں اور ٹیکس ایک کے بعد ایک لگتے ہیں، اور ہر اگلا ٹیکس پچھلی رقموں سمیت قیمت پر لگتا ہے۔ اسی لیے کل ڈیوٹی اکثر گاڑی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ کیلکولیٹر ایک مکمل تیار (سی بی یو) کار، ایس یو وی یا منی وین (ہیڈنگ ⁦87.03⁩) کے لیے ہے۔ حتمی ڈیوٹی وہی ہے جو کسٹمز اپنی ویلیوایشن اور اسیسمنٹ کے بعد طے کرے؛ یہ صرف اندازہ ہے۔

حساب کا طریقہ

  1. کسٹمز قیمت روپوں میں = ڈالر میں قیمت × شرحِ تبادلہ۔ استعمال شدہ گاڑی پر ہر مکمل مہینے کے لیے ⁦1%⁩ فرسودگی، زیادہ سے زیادہ ⁦60%⁩۔
  2. کسٹمز ڈیوٹیاں = قیمت × (کسٹمز ڈیوٹی + ریگولیٹری ڈیوٹی + ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی)۔ کمرشل استعمال شدہ درآمد پر ⁦30%⁩ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی۔
  3. ایکسائز ڈیوٹی اور اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی = (قیمت + کسٹمز ڈیوٹیاں) × شرح۔
  4. سیلز ٹیکس (⁦25%⁩) اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس (⁦3%⁩) = (قیمت + کسٹمز ڈیوٹیاں + ایکسائز) × شرح۔ ⁦850cc⁩ تک ویلیو ایڈیشن ٹیکس نہیں۔
  5. انکم ٹیکس دفعہ 148 = اب تک کی کل رقم × ⁦5.5%⁩ (نان فائلر ⁦11%⁩، کمرشل درآمد کنندہ ⁦6%⁩)۔
  6. ⁦1300cc⁩ سے بڑی گاڑی پر سب ڈیوٹیوں سمیت قیمت کا ⁦1%⁩ کیپیٹل ویلیو ٹیکس۔

مثال: نئی ⁦1300cc⁩ گاڑی

کسٹمز قیمت ⁦US$20,000⁩، 276.85 روپے فی ڈالر، فائلر۔ قیمت 5,537,000 روپے؛ کسٹمز ڈیوٹی 2,214,800 روپے، ریگولیٹری ڈیوٹی 442,960 روپے، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی 221,480 روپے؛ ایکسائز ڈیوٹی 841,624 روپے؛ سیلز ٹیکس 2,314,466 روپے اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس 277,736 روپے؛ انکم ٹیکس 651,754 روپے۔ کل 6,964,820 روپے، یعنی بندرگاہ پر گاڑی کی کل لاگت تقریباً 12,501,820 روپے۔ نان فائلر کے لیے کل 7,616,573 روپے۔

انجن کے حساب سے ڈیوٹی (نئی گاڑی، ⁦US$20,000⁩)

انجنکسٹمز ڈیوٹیریگولیٹری ڈیوٹیایکسائز (کل)کل ڈیوٹی اور ٹیکسقیمت کا حصہ
⁦660cc⁩⁦30%⁩⁦0%⁩⁦2.5%⁩4,192,807 روپے⁦76%⁩
⁦1,000cc⁩⁦35%⁩⁦8%⁩⁦2.5%⁩5,729,218 روپے⁦103%⁩
⁦1,300cc⁩⁦40%⁩⁦8%⁩⁦10%⁩6,964,820 روپے⁦126%⁩
⁦1,500cc⁩⁦40%⁩⁦8%⁩⁦10%⁩7,089,838 روپے⁦128%⁩
⁦1,800cc⁩⁦45%⁩⁦8%⁩⁦30%⁩9,876,502 روپے⁦178%⁩
⁦2,000cc⁩⁦50%⁩⁦20%⁩⁦116%⁩22,846,198 روپے⁦413%⁩
⁦2,500cc⁩⁦50%⁩⁦20%⁩⁦116%⁩22,846,198 روپے⁦413%⁩
⁦3,500cc⁩⁦50%⁩⁦20%⁩⁦132%⁩24,948,657 روپے⁦451%⁩

⁦2000cc⁩ سے اوپر نئی اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی وجہ سے ڈیوٹی تیزی سے بڑھتی ہے: ⁦US$40,000⁩ کی ⁦2500cc⁩ گاڑی پر تقریباً 45,692,396 روپے، یعنی قیمت کا ⁦413%⁩۔

گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس: مقررہ ڈالر رقم

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی (دوہری شہریت والے بھی) تین سال تک پرانی کار گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت منگوا سکتے ہیں۔ ⁦1800cc⁩ تک کی ایشیائی ساختہ کاروں پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی جگہ یہ مقررہ رقم لگتی ہے، جو ہر مہینے ⁦1%⁩ کم ہوتی ہے:

انجن (⁦cc⁩)مقررہ رقم24 ماہ پرانی گاڑی، 276.85 روپے فی ڈالر
⁦≤ 800⁩⁦US$4,800⁩1,009,949 روپے
⁦801–1000⁩⁦US$6,000⁩1,262,436 روپے
⁦1001–1300⁩⁦US$13,200⁩2,777,359 روپے
⁦1301–1500⁩⁦US$18,590⁩3,911,448 روپے
⁦1501–1600⁩⁦US$22,550⁩4,744,655 روپے
⁦1601–1800⁩⁦US$27,940⁩5,878,744 روپے

مثال: دو سال پرانی ⁦1000cc⁩ کار پر ⁦US$6,000⁩ کا ⁦76%⁩، یعنی ⁦US$4,560⁩، جو 276.85 روپے فی ڈالر پر 1,262,436 روپے بنتے ہیں۔ کسٹمز اس کے علاوہ اپنی مقرر کردہ قیمت پر ریگولیٹری ڈیوٹی (⁦1300cc⁩ سے بڑی استعمال شدہ گاڑی پر ⁦8%⁩)، ایکسائز ڈیوٹی یا کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگا سکتا ہے، جو یہ کیلکولیٹر شامل نہیں کرتا۔ ⁦1800cc⁩ سے بڑی، غیر ایشیائی ساخت یا الیکٹرک گاڑیاں ان اسکیموں میں بھی عام شرحوں پر اسیس ہوتی ہیں (کمرشل ⁦30%⁩ کے بغیر)۔

استعمال شدہ ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیاں

30 ماہ پرانی ⁦1800cc⁩ ہائبرڈ، جس کی نئی قیمت ⁦US$25,000⁩ ہو، کمرشل درآمد میں ⁦30%⁩ فرسودگی کے بعد 4,844,875 روپے پر اسیس ہو گی اور کل ڈیوٹی تقریباً 11,295,170 روپے بنے گی۔ ہائبرڈ پر ⁦1800cc⁩ سے اوپر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی ⁦8%⁩ ہے، پیٹرول گاڑی کی طرح ⁦20%⁩ نہیں۔ الیکٹرک گاڑی کے لیے انجن کی جگہ بیٹری کا سائز درج کریں۔

یہ کیلکولیٹر کیا شامل نہیں کرتا

دوسرے سامان پر ڈیوٹی کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کیلکولیٹر اور موبائل فون کے لیے پی ٹی اے ٹیکس کیلکولیٹر دیکھیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

⁦2026-27⁩ میں ⁦1300cc⁩ گاڑی پر درآمدی ڈیوٹی کتنی ہے؟

نئی ⁦1300cc⁩ پیٹرول گاڑی جس کی کسٹمز قیمت ⁦US$20,000⁩ ہو، 276.85 روپے فی ڈالر پر، تقریباً 6,964,820 روپے ڈیوٹی اور ٹیکس بنتے ہیں، یعنی قیمت کا ⁦126%⁩۔ اس میں ⁦40%⁩ کسٹمز ڈیوٹی، ⁦8%⁩ ریگولیٹری ڈیوٹی، ⁦4%⁩ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی، ⁦10%⁩ ایکسائز ڈیوٹی، ⁦25%⁩ سیلز ٹیکس اور ⁦3%⁩ ویلیو ایڈیشن ٹیکس، اور فائلر کے لیے ⁦5.5%⁩ انکم ٹیکس شامل ہے۔

⁦2026-27⁩ کے بجٹ میں درآمدی گاڑیوں کے لیے کیا بدلا؟

سب سے بڑی تبدیلی فنانس ایکٹ 2026 کی نئی اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی ہے: ⁦2000cc⁩ سے ⁦3000cc⁩ تک کی درآمدی گاڑیوں پر ⁦86%⁩ اور اس سے بڑی پر ⁦92%⁩۔ یہ پہلے سے موجود ⁦30%⁩ یا ⁦40%⁩ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے علاوہ ہے، اس لیے بڑے انجن والی گاڑیاں بہت مہنگی ہو گئیں۔ اسی ایکٹ نے ⁦US$75,000⁩ سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگا دی۔ ⁦2026-27⁩ میں انجن کے حساب سے کسٹمز ڈیوٹی ⁦30%⁩ سے ⁦50%⁩، ⁦1800cc⁩ تک کی زیادہ تر گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی ⁦8%⁩ اور اس سے بڑی پر ⁦20%⁩، اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی ⁦4%⁩ ہے۔

گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی تین سال تک پرانی استعمال شدہ گاڑی بھیج یا لا سکتے ہیں۔ ⁦1800cc⁩ تک کی ایشیائی ساختہ گاڑیوں (جیپ کے علاوہ) پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی جگہ ڈالر میں ایک مقررہ رقم لگتی ہے، ⁦800cc⁩ تک ⁦US$4,800⁩ سے ⁦1601-1800cc⁩ کے لیے ⁦US$27,940⁩ تک، اور گاڑی کی عمر کے ہر مہینے پر ⁦1%⁩ کمی ہوتی ہے۔ ڈیوٹی بیرونِ ملک سے بھیجے گئے زرِ مبادلہ سے ادا کرنا ضروری ہے۔

استعمال شدہ گاڑی کی کمرشل درآمد مہنگی کیوں ہے؟

فروخت کے لیے کمرشل طور پر درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر ایس آر او ⁦1065(I)/2026⁩ کے تحت عام ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ ⁦30%⁩ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی لگتی ہے، اور درآمد کنندہ ⁦5.5%⁩ کے بجائے ⁦6%⁩ کمرشل شرح سے انکم ٹیکس دیتا ہے۔ عمر کے حساب سے ہر ماہ ⁦1%⁩ (زیادہ سے زیادہ ⁦60%⁩) فرسودگی اس قیمت کو کم کرتی ہے جس پر یہ سب شرحیں لگتی ہیں۔

کیا الیکٹرک گاڑی پر درآمدی ڈیوٹی کم ہے؟

ہاں۔ ⁦US$50,000⁩ تک کی الیکٹرک گاڑی پر ⁦25%⁩ کسٹمز ڈیوٹی لگتی ہے، ریگولیٹری اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی نہیں، ⁦US$75,000⁩ سے کم پر ایکسائز ڈیوٹی نہیں، اور ⁦50 kWh⁩ یا اس سے چھوٹی بیٹری پر سیلز ٹیکس ⁦12.5%⁩ ہے۔ ⁦60 kWh⁩ بیٹری والی ⁦US$40,000⁩ کی الیکٹرک گاڑی پر 276.85 روپے فی ڈالر کے حساب سے تقریباً 6,773,350 روپے بنتے ہیں، کیونکہ بڑی بیٹری پر سیلز ٹیکس ⁦18%⁩ اور ⁦1%⁩ کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگتا ہے۔

کیا نان فائلر ہونے سے گاڑی کی ڈیوٹی بڑھتی ہے؟

صرف انکم ٹیکس بدلتا ہے: ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں نہ ہونے والوں کے لیے یہ ⁦5.5%⁩ سے دگنا ہو کر ⁦11%⁩ ہو جاتا ہے۔ ⁦1300cc⁩ والی مثال میں کل رقم 6,964,820 روپے سے بڑھ کر 7,616,573 روپے ہو جاتی ہے۔ کسٹمز، ایکسائز اور سیلز ٹیکس سب کے لیے ایک جیسے ہیں۔

کسٹمز کی رقم مختلف کیوں ہو سکتی ہے؟

کسٹمز گاڑی کی قیمت اسی میک، ماڈل اور سال کی ویلیوایشن رولنگ سے لیتا ہے، گڈز ڈیکلریشن کے دن کے شرحِ تبادلہ پر تبدیل کرتا ہے اور عمر خود شمار کرتا ہے۔ کرایہ، انشورنس اور راؤنڈنگ سے بھی قیمت بدل سکتی ہے۔ سب سے قریب نتیجے کے لیے اپنی جی ڈی والی قیمت اور ریٹ درج کریں؛ حتمی رقم وہی ہے جو کسٹمز طے کرے۔

رہنمائی

متعلقہ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر اپنی ویب سائٹ پر لگائیں

بلاگز، فورمز اور کاروباری ویب سائٹس کے لیے مفت۔ یہ کوڈ وہاں لگائیں جہاں کیلکولیٹر دکھانا ہو۔ یہ خود بخود اپ ڈیٹ رہتا ہے۔

ذرائع

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔