ہوم ‹ ٹیکس اور تنخواہ

پی ٹی اے موبائل فون ٹیکس کیلکولیٹر

⁦2026-27⁩ میں درآمد شدہ موبائل فون کو پی ٹی اے (ڈربس) میں پاسپورٹ یا شناختی کارڈ پر رجسٹر کرانے کی ڈیوٹی اور ٹیکس معلوم کریں، کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ہینڈ سیٹ لیوی الگ الگ دیکھیں۔

US$
کسٹمز ہر ماڈل کی اپنی مقرر کردہ قیمت لگاتا ہے، آپ کی رسید والی نہیں۔ ڈربس کی ادائیگی کی پرچی (پی ایس آئی ڈی) پر لگائی گئی قیمت درج ہوتی ہے۔
روپے
یہ آپ خود بدل سکتے ہیں: ادائیگی کی پرچی والا یا آج کا ریٹ درج کریں۔ 280 صرف مثال ہے۔
رجسٹریشن
پاسپورٹ: سامان میں لایا گیا فون، پاکستان آمد کے 60 دن کے اندر رجسٹریشن۔

اس فون کی رجسٹریشن کا ٹیکس

83,813 روپے

شناختی کارڈ پر، ⁦US$600⁩، ایک ڈالر 280 روپے کے حساب سے

روپوں میں قیمت168,000 روپے
کسٹمز ڈیوٹی250 روپے
ریگولیٹری ڈیوٹی17,600 روپے
سیلز ٹیکس (⁦25%⁩)46,463 روپے
انکم ٹیکس11,500 روپے
موبائل ہینڈ سیٹ لیوی8,000 روپے
کل پی ٹی اے ٹیکس83,813 روپے

پی ٹی اے ٹیکس کس پر لگتا ہے

بیرونِ ملک سے لایا یا منگوایا گیا ہر فون پاکستانی نیٹ ورک پر چلنے سے پہلے پی ٹی اے کے ڈربس نظام میں رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹریشن پر کسٹمز کی ڈیوٹی اور ٹیکس ایک پرچی (پی ایس آئی ڈی) کے ذریعے بینک یا موبائل ایپ سے ادا ہوتے ہیں۔ یہ کیلکولیٹر ایک فون (مکمل تیار حالت میں) کے لیے ہے؛ تجارتی درآمد، عارضی رجسٹریشن اور 60 دن کے بعد لگنے والا جرمانہ اس میں شامل نہیں۔

حساب کا طریقہ

  1. قیمت روپوں میں = ڈالر میں قیمت × شرحِ تبادلہ۔
  2. کسٹمز ڈیوٹی 250 روپے فی سیٹ، اور ریگولیٹری ڈیوٹی قیمت کے درجے کے مطابق مقررہ رقم۔
  3. سیلز ٹیکس = (قیمت + کسٹمز ڈیوٹی + ریگولیٹری ڈیوٹی) × ⁦18%⁩، یا ⁦US$500⁩ سے اوپر ⁦25%⁩۔
  4. انکم ٹیکس صرف شناختی کارڈ پر، درجے کے مطابق مقررہ رقم؛ نان فائلر کے لیے دگنا۔
  5. اسمارٹ فون پر موبائل ہینڈ سیٹ لیوی، درجے کے مطابق مقررہ رقم۔

مثال: ⁦US$600⁩ کا اسمارٹ فون، 280 روپے فی ڈالر، شناختی کارڈ اور فائلر۔ قیمت 168,000 روپے، کسٹمز ڈیوٹی 250 روپے، ریگولیٹری ڈیوٹی 17,600 روپے، سیلز ٹیکس 46,463 روپے، انکم ٹیکس 11,500 روپے، لیوی 8,000 روپے؛ کل 83,813 روپے۔ یہی فون پاسپورٹ پر 72,313 روپے کا پڑے گا۔

⁦2026-27⁩ کی شرحیں

قیمت (⁦US$⁩)ریگولیٹری ڈیوٹیانکم ٹیکس (شناختی کارڈ، فائلر)ہینڈ سیٹ لیویسیلز ٹیکس
⁦≤ 30⁩240100⁦100⁩⁦18%⁩
⁦30 – 100⁩2,400100⁦200⁩⁦18%⁩
⁦100 – 200⁩6,000100⁦200⁩⁦18%⁩
⁦200 – 350⁩8,800970⁦1,800⁩⁦18%⁩
⁦350 – 500⁩12,0005,000⁦4,000⁩⁦18%⁩
⁦> 500⁩17,60011,500⁦8,000 / 16,000⁩⁦25%⁩

تمام رقمیں روپے فی سیٹ ہیں۔ ⁦US$30⁩ تک کے سادہ (غیر اسمارٹ) فون پر انکم ٹیکس 70 روپے ہے اور لیوی نہیں لگتی۔ ⁦US$500⁩ سے اوپر لیوی ⁦US$700⁩ تک 8,000 اور اس سے اوپر 16,000 روپے ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی ہر درجے میں 250 روپے ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

⁦2026-27⁩ میں پی ٹی اے ٹیکس کیسے نکلتا ہے؟

پانچ چیزیں جمع ہوتی ہیں: فی سیٹ 250 روپے کسٹمز ڈیوٹی؛ قیمت کے درجے کے حساب سے مقررہ ریگولیٹری ڈیوٹی (240 سے 17,600 روپے)؛ قیمت اور کسٹمز ڈیوٹیوں کے مجموعے پر سیلز ٹیکس، ⁦US$500⁩ تک ⁦18%⁩ اور اس سے اوپر ⁦25%⁩؛ شناختی کارڈ پر رجسٹریشن کی صورت میں قیمت کے درجے کے حساب سے مقررہ انکم ٹیکس؛ اور اسمارٹ فون پر موبائل ہینڈ سیٹ لیوی (100 سے 16,000 روپے)۔

کیا پاسپورٹ پر رجسٹریشن شناختی کارڈ سے سستی ہے؟

ہاں، صرف انکم ٹیکس جتنی۔ بیگیج رولز کے تحت ذاتی سامان میں لائے گئے فون پر دفعہ 148 کا انکم ٹیکس معاف ہے، اس لیے آمد کے 60 دن کے اندر پاسپورٹ پر رجسٹریشن میں یہ رقم نہیں لگتی۔ کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور لیوی دونوں میں ایک جیسے ہیں۔

2026 کے بجٹ میں کیا بدلا؟

ایس آر او ⁦1064(I)/2026⁩ کے تحت ہر درجے کی ریگولیٹری ڈیوٹی کم ہوئی (مثلاً ⁦US$500⁩ سے اوپر 22,000 کے بجائے 17,600 روپے)۔ ⁦US$100⁩ سے ⁦US$200⁩ والے فون پر شناختی کارڈ کا انکم ٹیکس 930 سے کم ہو کر 100 روپے اور اسی درجے کی ہینڈ سیٹ لیوی 600 سے 200 روپے ہو گئی۔ نئے قانون کے تحت افراد سیلز ٹیکس اسی مالی سال کے اندر قسطوں میں ادا کر سکیں گے، جب اس کا طریقہ کار جاری ہو جائے۔

میرا پی ٹی اے ٹیکس اس اندازے سے مختلف کیوں ہے؟

حساب میں کسٹمز کی آپ کے ماڈل کے لیے مقرر کردہ قیمت اس دن کے شرحِ تبادلہ پر لی جاتی ہے، اور کسٹمز قیمت میں لینڈنگ چارجز بھی شامل کر سکتا ہے۔ سب سے درست نتیجے کے لیے اپنی پی ایس آئی ڈی والی قیمت اور ریٹ درج کریں۔ حتمی رقم وہی ہے جو ڈربس دکھائے۔

کیا نان فائلر ہونے سے فرق پڑتا ہے؟

صرف شناختی کارڈ پر: ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں نہ ہونے والوں کا انکم ٹیکس دگنا ہو جاتا ہے۔ پاسپورٹ پر انکم ٹیکس نہیں لگتا، اس لیے فائلر ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔

رہنمائی

متعلقہ کیلکولیٹر

ذرائع

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔