ہوم ‹ رہنمائی

2026 میں بیرونِ ملک سے گاڑی پاکستان منگوانا: گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس کے قواعد، عمر کی حد اور ڈیوٹی

خلاصہ

پرسنل بیگیج اسکیم ختم؛ 2026 میں بیرونِ ملک پاکستانی گاڑی گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس پر منگواتے ہیں۔ اہلیت، عمر کی حد، ڈیوٹی، کاغذات اور پورٹ کے مراحل۔

گاڑی درآمدی ڈیوٹی کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←

جنوری 2026 سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے گاڑی منگوانے کا نظام بدل گیا ہے۔ وزارتِ تجارت کے ایس آر او ⁦61(I)/2026⁩ نے پرسنل بیگیج اسکیم ختم کر دی، اب صرف دو راستے ہیں: گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس (ٹی آر)، اور دونوں کی شرطیں سخت ہوئی ہیں۔ یہ رہنمائی بتاتی ہے کہ کون گاڑی منگوا سکتا ہے، کتنی پرانی گاڑی چلتی ہے، ڈیوٹی کیسے لگتی ہے، اور پورٹ سے نکلنے کے بعد رجسٹریشن پر کتنا خرچ آتا ہے۔

2026 میں کیا بدلا

کون گاڑی منگوا سکتا ہے

ایف بی آر کی گائیڈ کے مطابق صرف بیرونِ ملک رہنے والا پاکستانی شہری، بشمول دوہری شہریت اور پاکستان اوریجن کارڈ والے؛ 18 سال سے کم عمر نہیں۔ ایف بی آر کے صفحے کے مطابق پاکستان سے رقم وصول کرنے والے طلبہ اور خاندان کے غیر کمانے والے افراد اہل نہیں۔

گاڑی کی عمر کی حد

کار تین سال اور دوسری گاڑیاں (جیپ وغیرہ) پانچ سال سے زیادہ پرانی نہ ہوں۔ عمر بننے کے سال کے اگلے سال کی یکم جنوری سے بل آف لیڈنگ کی شپمنٹ تاریخ تک گنی جاتی ہے۔

مثال: 2023 میں بنی کار، یکم جنوری 2024 سے گنتی شروع؛ 15 اکتوبر 2026 کو شپمنٹ پر عمر 33 مکمل ماہ (2 سال 9 ماہ)، یعنی تین سال کی حد کے اندر۔ اگر یہی کار جنوری 2027 یا بعد میں شپ ہو تو اہل نہیں رہتی۔

ڈیوٹی کیسے لگتی ہے

1. ایشیائی استعمال شدہ کاریں، 1800 سی سی تک: ایس آر او ⁦577(I)/2005⁩ کے تحت کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی جگہ ڈالر میں مقررہ رقم لگتی ہے، جس پر عمر کے حساب سے کمی ملتی ہے۔ ایف بی آر کے گاڑیوں والے صفحے پر یہ رقمیں ہیں:

انجن (سی سی)مقررہ رقم
⁦800⁩⁦US$4,800⁩
⁦801–1000⁩⁦US$6,000⁩
⁦1001–1300⁩⁦US$13,200⁩
⁦1301–1500⁩⁦US$18,590⁩
⁦1501–1600⁩⁦US$22,550⁩
⁦1601–1800⁩⁦US$27,940⁩

ایف بی آر کی یکجا شدہ ایس آر او کی نقل میں آخری چار سلیبز کی رقم کم لکھی ہے، اور ہمیں وہ ترمیم نہیں ملی جس سے یہ بڑھیں؛ اس لیے رقم اپنے کلیئرنگ ایجنٹ یا کسٹمز سے ضرور تصدیق کریں۔ اس اسکیم والی گاڑیوں پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی نہیں لگتی (ایس آر او ⁦1063(I)/2026⁩)۔

2. باقی گاڑیاں: ڈیوٹی گاڑی کی ویلیو پر لگتی ہے۔ ویلیو بنانے کا طریقہ (سی جی او ⁦14/2005⁩، ترمیم شدہ): ویلیوایشن رولنگ ہو تو وہ، ورنہ کمپنی کی تجویز کردہ ریٹیل قیمت سے فرسودگی منہا، اور اس پر کرایہ، ⁦1%⁩ انشورنس اور ⁦1%⁩ لینڈنگ چارجز۔ کاروں کے لیے فرسودگی ⁦1%⁩ ماہانہ، زیادہ سے زیادہ ⁦60%⁩؛ اوپر والی مثال کی گاڑی پر ⁦33%⁩۔ اس ویلیو پر یہ ٹیکس لگتے ہیں:

کمرشل طور پر درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر ایس آر او ⁦1065(I)/2026⁩ کے تحت ⁦30%⁩ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی ہے؛ گفٹ اور ٹی آر اس میں نہیں آتے۔

کاغذات

پورٹ پر مراحل

  1. گاڑی پہنچنے پر کلیئرنگ ایجنٹ کسٹمز کے ویبوک سسٹم میں گڈز ڈیکلریشن جمع کراتا ہے۔
  2. کسٹمز کاغذات اور قیام کے دن جانچتا ہے، گاڑی کا معائنہ کر کے ماڈل، انجن اور تاریخِ تیاری دیکھتا ہے، اور ویلیو یا مقررہ رقم طے کرتا ہے۔
  3. ڈیوٹی بینک میں جمع ہوتی ہے، اور ادائیگی کے بعد گاڑی ریلیز ہوتی ہے۔
  4. پھر صوبائی ایکسائز میں رجسٹریشن؛ ایک سال تک گاڑی کسی اور کے نام نہیں ہو سکتی۔

پورٹ پر ہر قدم کا تفصیلی طریقہ ہم نے سرکاری دستاویز سے تازہ تصدیق نہیں کیا؛ تجربہ کار، لائسنس یافتہ کلیئرنگ ایجنٹ رکھیں اور اسٹوریج کے دن کم رکھنے کے لیے کاغذات پہلے تیار کریں۔

رجسٹریشن کا خرچ

کلیئرنس کے بعد رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس اور دیگر فیسیں صوبہ لیتا ہے۔ 6,000,000 روپے مالیت کی 1300 سی سی درآمدی کار پر، رجسٹریشن کیلکولیٹر کے مطابق:

صوبہرجسٹریشن فیسٹوکن ٹیکسدیگر فیسیںایکسائز کا کل
پنجاب120,000 روپے18,000 روپے1,500 روپے139,500 روپے
سندھ75,000 روپے2,000 روپے5,550 روپے82,550 روپے
اسلام آباد120,000 روپے15,000 روپے3,400 روپے138,400 روپے

انکم ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔ ٹوکن ٹیکس کے بارے میں ٹوکن ٹیکس رہنمائی اور ٹوکن ٹیکس کیلکولیٹر دیکھیں۔ اگر درآمد کی بجائے مقامی گاڑی قسطوں پر لینے کا سوچ رہے ہیں تو کار لون کیلکولیٹر سے موازنہ کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا اب بھی پرسنل بیگیج اسکیم پر گاڑی لائی جا سکتی ہے؟

نہیں۔ وزارتِ تجارت کے 15 جنوری 2026 کے ایس آر او ⁦61(I)/2026⁩ نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 سے پرسنل بیگیج نکال دیا۔ اب بیرونِ ملک پاکستانی استعمال شدہ گاڑی صرف گھر والوں کو گفٹ کے طور پر یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس پر منگوا سکتے ہیں۔

درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑی کتنی پرانی ہو سکتی ہے؟

کار تین سال اور جیپ جیسی دوسری گاڑیاں پانچ سال سے زیادہ پرانی نہ ہوں۔ عمر بننے کے سال کے اگلے سال کی یکم جنوری سے بل آف لیڈنگ کی شپمنٹ تاریخ تک گنی جاتی ہے، اس لیے 2023 ماڈل جو 15 اکتوبر 2026 کو شپ ہو، 2 سال 9 ماہ پرانا ہے۔

گفٹ کی گاڑی کون وصول کر سکتا ہے؟

پاکستان میں عام طور پر رہنے والا خاندان کا فرد۔ ایف بی آر کی گائیڈ کے مطابق خاندان میں والدین، بہن بھائی، شوہر، بیوی اور بچے شامل ہیں، مگر 18 سال سے کم عمر بچے نہیں۔ گفٹ دینے والے کو بیرونِ ملک قیام کی شرط پوری کرنی ہوتی ہے اور ڈیوٹی زرِ مبادلہ میں ادا ہوتی ہے۔

کیا کلیئرنس کے بعد گاڑی بیچ سکتا ہوں؟

ایک سال تک نہیں۔ ایس آر او ⁦61(I)/2026⁩ نے یہ شرط شامل کی کہ گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس پر آئی گاڑی درآمد کی تاریخ سے ایک سال تک کسی اور کے نام منتقل نہیں ہو سکتی۔

ڈیوٹی کیسے ادا ہوتی ہے؟

بیرونِ ملک سے زرِ مبادلہ میں۔ ایف بی آر کی گائیڈ کے مطابق گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس کی گاڑی کی ڈیوٹی اور ٹیکس بھیجنے والے کے اپنے بیرونی اکاؤنٹ سے آئی رقم سے ادا ہوتے ہیں، اور بینک کا انکیشمنٹ سرٹیفکیٹ ساتھ لگتا ہے۔

اس رہنمائی کے کیلکولیٹر

ذرائع

یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔

🧮 گاڑی درآمدی ڈیوٹی کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←