بینکنگ میں ود ہولڈنگ ٹیکس 2026-27: منافع، نقد رقم نکلوانا، کارڈ اور پرائز بانڈ
2026-27 میں بینک کون سا ٹیکس کاٹتا ہے: منافع پر 20% (نان فائلر 40%)، نان فائلر کی نقد نکلوائی پر 0.8%، بیرونِ ملک کارڈ ادائیگی اور پرائز بانڈ پر ٹیکس۔
بینک منافع کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←
بینک صرف آپ کا پیسہ نہیں رکھتا، ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس بھی کاٹتا ہے۔ ان کٹوتیوں کو ود ہولڈنگ ٹیکس کہتے ہیں اور ان کی شرح زیادہ تر اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں ہے یا نہیں۔ یہ رہنمائی ایف بی آر کے ٹیکس سال 2027 کے ریٹ کارڈ اور 30 جون 2026 تک ترمیم شدہ انکم ٹیکس آرڈیننس سے ہر وہ کٹوتی بتاتی ہے جو ایک عام کھاتہ دار کو 2026-27 میں پیش آ سکتی ہے، اور یہ بھی کہ کون سی کٹوتیاں اب ختم ہو چکی ہیں۔
ایک نظر میں: 2026-27 کی شرحیں
| کٹوتی | دفعہ | فائلر | نان فائلر |
|---|---|---|---|
| بینک ڈپازٹ اور سیونگز اکاؤنٹ کا منافع | 151 | 20% | 40% |
| قومی بچت اسکیموں کا منافع | 151 | 15% | 30% |
| نقد رقم نکلوانا (دن میں 50,000 روپے سے زیادہ) | 231AB | کوئی نہیں | 0.8% |
| بیرونِ ملک کارڈ سے ادائیگی | 236Y | 0.5% | 1% |
| پرائز بانڈ کا انعام | 156 | 15% | 30% |
اپنا نام لسٹ میں ہے یا نہیں، یہ 9966 پر شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کر کے یا ایف بی آر کی ویب سائٹ پر دیکھیں۔ بینک ہر کٹوتی کے وقت یہی اسٹیٹس دیکھتا ہے۔
منافع پر ٹیکس (دفعہ 151)
سیونگز اکاؤنٹ، ٹرم ڈپازٹ یا کسی بھی بینک کھاتے پر ملنے والے منافع سے بینک فائلر کا 20% اور نان فائلر کا 40% کاٹتا ہے۔ کوئی کم از کم حد نہیں: چند سو روپے کے منافع پر بھی کٹوتی ہوتی ہے۔ اگر بینک نے زکوٰۃ کاٹی ہو تو ٹیکس زکوٰۃ منہا کرنے کے بعد والے منافع پر لگتا ہے۔
مثال: 10 لاکھ روپے، 10% سالانہ (اسٹیٹ بینک کی کم از کم سیونگز شرح):
| ٹیکس | فائلر | نان فائلر |
|---|---|---|
| سالانہ منافع | 100,000 روپے | 100,000 روپے |
| ٹیکس | 20,000 روپے | 40,000 روپے |
| ہاتھ میں منافع | 80,000 روپے | 60,000 روپے |
| ٹیکس کے بعد شرح | 8% | 6% |
یعنی صرف فائلر نہ ہونے کی وجہ سے اس کھاتے پر ہر سال 20,000 روپے زیادہ کٹتے ہیں۔ اپنی رقم کا حساب بینک منافع کیلکولیٹر پر کریں۔
کیا یہ حتمی ہے؟ دفعہ 151(3) کے مطابق یہ کٹوتی کم از کم ٹیکس ہے۔ افراد اور اے او پی کے لیے دفعہ 7B کہتی ہے کہ سال میں 50 لاکھ روپے تک کا منافع باقی آمدنی سے الگ اسی شرح پر ٹیکس ہوتا ہے، اس لیے عام کھاتہ دار کا معاملہ بینک کی کٹوتی پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے زیادہ منافع ہو تو وہ عام آمدنی میں شامل ہو کر سلیب کے مطابق ٹیکس ہوتا ہے۔
قومی بچت، سرکاری سیکیورٹیز اور سکوک
قومی بچت سرٹیفکیٹ اور اکاؤنٹس کے منافع پر شرح فائلر کے لیے 15% اور نان فائلر کے لیے 30% ہے۔ بہبود سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر کوئی ود ہولڈنگ نہیں اور ٹیکس زیادہ سے زیادہ 5% ہے؛ تفصیل ہمارے قومی بچت اسکیموں کے موازنے میں ہے۔
کمپنی یا ایس پی وی کے جاری کردہ سکوک کے منافع پر ریٹ کارڈ کے مطابق فرد یا اے او پی کے لیے 10 لاکھ روپے سے کم منافع پر 10% اور 10 لاکھ سے زیادہ پر 12.5% کٹتا ہے (نان فائلر کے لیے دگنا)۔
نقد رقم نکلوانے پر ٹیکس (دفعہ 231AB)
یہ ٹیکس 2026-27 میں نافذ ہے، مگر صرف ان پر جن کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں نہیں۔ اگر ایک دن میں تمام نقد نکلوائیوں کا مجموعہ 50,000 روپے سے زیادہ ہو تو بینک 0.8% کاٹتا ہے۔ فنانس ایکٹ 2025 نے شرح 0.6% سے بڑھا کر 0.8% کی تھی اور فنانس ایکٹ 2026 نے اسے نہیں بدلا۔
- مثال: نان فائلر ایک دن میں 200,000 روپے نقد نکالتا ہے: 200,000 × 0.8% = 1,600 روپے۔
- حد ایک دن کی تمام نکلوائیوں پر ہے، اس لیے رقم ٹکڑوں میں نکالنے سے فرق نہیں پڑتا۔
- یہ ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس ہے اور نان فائلر کے لیے دگنا نہیں ہوتا (دسویں شیڈول کا رول 10)۔
- آن لائن ٹرانسفر، چیک سے کسی اور کو ادائیگی یا پے آرڈر پر اب کوئی ود ہولڈنگ نہیں: پرانی دفعات 231A، 231AA اور 236P فنانس ایکٹ 2021 میں ختم ہو چکی ہیں۔
بیرونِ ملک کارڈ کی ادائیگی (دفعہ 236Y)
ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈ سے کسی غیر ملکی ویب سائٹ یا بیرونِ ملک دکان کو ادائیگی ہو تو بینک رقم باہر بھیجتے وقت ایڈوانس ٹیکس لیتا ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 نے یہ شرح 5% سے کم کر کے 0.5% کر دی؛ نان فائلر کے لیے 1%۔ 100,000 روپے کی آن لائن خریداری پر فائلر 500 روپے اور نان فائلر 1,000 روپے دیتا ہے۔ یہ ٹیکس ایڈجسٹ ایبل ہے۔ بیرونِ ملک سے منگوائے سامان پر کسٹمز الگ معاملہ ہے؛ دیکھیں آن لائن آرڈر پر کسٹمز ڈیوٹی۔
پرائز بانڈ اور انعامات (دفعہ 156)
پرائز بانڈ یا کراس ورڈ پزل کے انعام پر فائلر کا 15% اور نان فائلر کا 30% کٹتا ہے؛ لاٹری، کوئز یا کمپنی کی سیل پروموشن کے انعام پر 20% اور 40%۔ یہ حتمی ٹیکس ہے۔ انعام نقد نہ ہو تو ٹیکس اس کی بازاری قیمت پر لگتا ہے۔
کس پر کم یا صفر ٹیکس
- غیر رہائشی: غیر رہائشی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ اور صرف باہر سے آئی رقم سے بنے روپے اکاؤنٹ کا منافع ٹیکس سے مستثنیٰ ہے (دوسرا شیڈول، حصہ اول، شق 78 اور 79)۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ والوں کے لیے دیکھیں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی رہنمائی۔
- ریٹرن لازم نہیں: اگر آپ پر ریٹرن لازم نہیں تھا تو دسویں شیڈول کے رول 2 کے تحت بینک کمشنر کو نوٹس دے سکتا ہے؛ 30 دن میں حکم نہ آئے تو عام شرح لگتی ہے۔ اپنی پوزیشن ٹیکس ریٹرن فائلنگ چیکر سے جانچیں۔
- استثنیٰ سرٹیفکیٹ: جس کی آمدنی مستثنیٰ ہو یا کم شرح پر ٹیکس ہو، وہ دفعہ 159 کے تحت کمشنر سے تحریری درخواست پر سرٹیفکیٹ لے کر بینک کو دے سکتا ہے۔
کٹا ہوا ٹیکس کیسے دیکھیں اور کلیم کریں
- بینک سے سال کا ود ہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹ مانگیں؛ اس میں منافع، نقد نکلوائی اور کارڈ کی کٹوتیاں ہوتی ہیں۔
- ریٹرن میں یہ کٹوتیاں درج کریں؛ ایڈجسٹ ایبل کٹوتیاں (نقد نکلوائی، کارڈ) آپ کے واجب الادا ٹیکس میں سے منہا ہوتی ہیں۔
- نان فائلر کو اگلے سال سے کم شرح چاہیے تو وقت پر ریٹرن جمع کرائے؛ نام لسٹ میں آتے ہی بینک کم شرح لگاتا ہے۔ طریقہ فائلر کیسے بنیں میں ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا 2026-27 میں بینک سے نقد رقم نکلوانے پر ٹیکس ہے؟
صرف نان فائلر پر۔ دفعہ 231AB کے تحت اگر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے باہر شخص کی ایک دن کی کل نقد نکلوائی 50,000 روپے سے زیادہ ہو تو بینک 0.8% کاٹتا ہے۔ فائلر پر کچھ نہیں۔ یہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے پر آپ کے انکم ٹیکس میں ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔
سیونگز اکاؤنٹ کے منافع پر کتنا ٹیکس کٹتا ہے؟
دفعہ 151 کے تحت فائلر کے لیے منافع کا 20% اور نان فائلر کے لیے 40%۔ ہر بار منافع جمع ہونے پر کٹتا ہے اور کوئی کم از کم حد نہیں۔ 10 لاکھ روپے پر 10% کے حساب سے یہ فائلر کے لیے سالانہ 20,000 روپے اور نان فائلر کے لیے 40,000 روپے بنتا ہے۔
کیا بینک کا کاٹا ہوا ٹیکس واپس مل سکتا ہے؟
صرف جتنا ایڈجسٹ ایبل ہو۔ نقد نکلوائی اور کارڈ والا ٹیکس ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس ہے، اس لیے ریٹرن میں کلیم ہو سکتا ہے۔ بینک منافع کا ٹیکس کم از کم ٹیکس ہے، اور جن افراد کا منافع 50 لاکھ روپے تک ہو ان پر یہ اسی شرح سے الگ بلاک کے طور پر لگتا ہے، اس لیے عملاً کم ہی واپس ملتا ہے۔ آئندہ شرح آدھی کرنے کا طریقہ فائلر بننا ہے۔ دیکھیں فائلر کیسے بنیں۔
کیا پرائز بانڈ کے انعام پر ٹیکس ہے؟
جی ہاں۔ دفعہ 156 کے تحت پرائز بانڈ کے انعام سے فائلر کا 15% اور نان فائلر کا 30% کٹتا ہے، اور یہ حتمی ٹیکس ہے: نہ مزید ٹیکس، نہ واپسی۔ 100,000 روپے کے انعام پر فائلر کو 85,000 روپے ملتے ہیں۔
مجھ پر ریٹرن لازم نہیں۔ کیا پھر بھی نان فائلر والی شرح لگے گی؟
ضروری نہیں۔ دسویں شیڈول کے رول 2 کے تحت بینک کمشنر کو آپ کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور ریٹرن لازم نہ ہونے کی وجہ بتا کر الیکٹرانک نوٹس دے سکتا ہے۔ اگر کمشنر 30 دن میں کوئی حکم نہ دے تو یہ دعویٰ منظور سمجھا جاتا ہے اور عام شرح لگتی ہے۔ اپنی برانچ سے پوچھیں کہ کیا وہ یہ نوٹس دے گی۔
اس رہنمائی کے کیلکولیٹر
- بینک منافع کیلکولیٹربینک سیونگز اکاؤنٹ پر فائلر کے لیے 20 فیصد اور نان فائلر کے لیے 40 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے بعد ماہانہ، سہ ماہی یا ششماہی منافع معلوم کریں۔
- قومی بچت کیلکولیٹربہبود، ریگولر انکم، ڈیفنس، اسپیشل اور شارٹ ٹرم سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اور سیونگز اکاؤنٹ پر ٹیکس کے بعد ماہانہ، ششماہی یا میچورٹی پر منافع معلوم کریں۔
- ٹیکس ریٹرن فائلنگ چیکرجانیں کہ کیا آپ پر ٹیکس سال 2026 کا انکم ٹیکس ریٹرن لازم ہے: 6 لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی، جائیداد، 1000cc سے بڑی گاڑی، این ٹی این یا دفعہ 114 کی دیگر شرائط۔
ذرائع
- ایف بی آر ود ہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ، ٹیکس سال 2027، فنانس ایکٹ 2026 کے مطابق 30 جون 2026 تک: دفعات 151، 151(1A)، 156، 231AB، 236، 236Y
- انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، 30 جون 2026 تک ترمیم شدہ (ایف بی آر): دفعات 7B، 151، 156، 159، 231AB، 236Y؛ پہلا، دوسرا اور دسواں شیڈول
- ایف بی آر: ایکٹو ٹیکس پیئر اسٹیٹس چیک کریں (ایس ایم ایس 9966 اور آن لائن)
- بینک منافع کی مثال میں 10% اسٹیٹ بینک کی کم از کم سیونگز شرح ہے جو پاک حساب کا بینک منافع کیلکولیٹر استعمال کرتا ہے (حوالہ اس کے ذرائع میں)
یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔