بیرونِ ملک سے آن لائن آرڈر (علی ایکسپریس، ایمازون، ٹیمو، شین) پر کسٹمز ڈیوٹی 2026-27
صرف 1,000 روپے تک کا پارسل ڈیوٹی سے آزاد ہے۔ جوتوں، کپڑوں اور گیجٹس پر ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کتنا بنتا ہے، اور ڈاک و کورئیر کلیئرنس کیسے ہوتی ہے۔
کسٹمز ڈیوٹی کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←
علی ایکسپریس، ایمازون، ٹیمو یا شین سے چیز سستی لگتی ہے، مگر پاکستان پہنچ کر اس پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس لگ سکتا ہے، جو بعض چیزوں پر قیمت کے تین چوتھائی تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ رہنمائی 2026-27 کے قانون کے مطابق بتاتی ہے کہ کب ڈیوٹی لگتی ہے، کتنی لگتی ہے، اور ڈاک اور کورئیر سے آنے والا پارسل کیسے کلیئر ہوتا ہے۔
ڈیوٹی فری حد: صرف 1,000 روپے
کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 19C کہتی ہے کہ ڈاک یا کورئیر سے آنے والا سامان اگر 1,000 روپے یا اس سے کم کا ہو تو اس پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ فنانس ایکٹ 2025 سے پہلے یہ حد 5,000 روپے تھی؛ فنانس ایکٹ 2026 نے اسے نہیں چھیڑا۔ ایف بی آر کے کسٹمز رولز کے مجموعے (اگست 2025) میں ابھی پرانی 5,000 روپے کی تعریف لکھی ہے، مگر ایکٹ قواعد پر فوقیت رکھتا ہے۔
- قیمت وہ مانی جاتی ہے جو ڈاک کے لیبل یا کورئیر کی رسید پر لکھی ہو، اور ڈالر کو روپے میں پچھلے دن کے سرکاری ریٹ پر بدلا جاتا ہے۔
- کسٹمز قیمت کی تصدیق کے لیے کوئی بھی پارسل کھول یا روک سکتا ہے۔
- عملاً 1,000 روپے میں چند ڈالر کی چیز ہی آتی ہے؛ اس سے اوپر پورا ٹیرف لگتا ہے۔ اپنی خریداری روپوں میں دیکھنے کے لیے کرنسی کنورٹر استعمال کریں۔
ڈیوٹی کن حصوں سے بنتی ہے
حد سے اوپر کے پارسل پر وہی ٹیکس لگتے ہیں جو کسی بھی درآمد پر، ایک دوسرے کے اوپر:
- کسٹمز ڈیوٹی: 2026-27 کے ٹیرف کے مطابق، زیادہ تر صارف اشیا پر 20%؛ گھڑیوں جیسی کچھ چیزوں پر صفر۔
- اضافی کسٹمز ڈیوٹی: ایس آر او 1063(I)/2026 کے تحت 20% والی سلیب پر 2%۔
- ریگولیٹری ڈیوٹی: ایس آر او 1064(I)/2026 کے تحت ہر چیز کی الگ؛ جیسے کپڑوں پر 8%، جوتوں اور کاسمیٹکس پر 20%۔
- سیلز ٹیکس: 18%، قیمت جمع کسٹمز ڈیوٹیوں پر۔
- انکم ٹیکس (دفعہ 148): قیمت جمع ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس پر، فائلر کے لیے 5.5% اور نان فائلر کے لیے 11%۔
کسٹمز ویلیو دفعہ 25 کے تحت طے ہوتی ہے، عموماً ادا کی گئی قیمت اور پاکستان تک کی ترسیل کا خرچ۔ ڈسکاؤنٹ کے بعد کی اصل قیمت جاننے کے لیے ڈسکاؤنٹ کیلکولیٹر کام آتا ہے۔
عام چیزوں پر کل ٹیکس
سرکاری شرحوں پر ہمارا حساب، فائلر کے لیے، سامان کی قیمت کے فیصد کے طور پر:
| چیز | ٹیرف | کسٹمز | اضافی | ریگولیٹری | کل ٹیکس |
|---|---|---|---|---|---|
| جوتے اور جاگرز | 64.04 | 20% | 2% | 20% | 77% |
| ٹی شرٹ اور دیگر کپڑے | 61.09 | 20% | 2% | 8% | 62% |
| میک اپ اور اسکن کیئر | 33.04 | 20% | 2% | 20% | 77% |
| ہینڈ بیگ اور بٹوے | 42.02 | 20% | 2% | 16% | 72% |
| ہیڈ فون اور اسپیکر | 85.18 | 20% | 2% | 4% | 57% |
| کھلونے | 9503.0090 | 20% | 2% | 16% | 72% |
| کلائی کی گھڑیاں | 91.02 | 0% | 0% | 20% | 49% |
کسی خاص ماڈل کی ٹیرف لائن مختلف ہو سکتی ہے، اور کسٹمز اپنی ویلیو لگا سکتا ہے؛ یہ اعداد اندازے کے لیے ہیں۔
مثال: 20,000 روپے کے جوتے
- کسٹمز ڈیوٹی 20% = 4,000 روپے؛ اضافی ڈیوٹی 2% = 400 روپے؛ ریگولیٹری ڈیوٹی 20% = 4,000 روپے
- سیلز ٹیکس = (20,000 + 8,400) × 18% = 5,112 روپے
- انکم ٹیکس (فائلر) = 33,512 × 5.5% = 1,843 روپے
- کل ٹیکس = 15,355 روپے، یعنی جوتے کی قیمت کا 77%؛ نان فائلر کے لیے 17,198 روپے۔
یعنی 20,000 روپے کا جوتا گھر پہنچ کر 35,355 روپے کا پڑتا ہے، ترسیل کے خرچ اور کارڈ ٹیکس کے علاوہ۔ آرڈر سے پہلے یہی حساب مقامی دکان کی قیمت سے ملا لیں۔
پاکستان پوسٹ سے آنے والا پارسل
- بیرونِ ملک سے ڈاک کے پارسل اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ، ملتان، فیصل آباد، پشاور اور کوئٹہ کے جی پی او کے فارن پارسل شعبوں میں کلیئر ہوتے ہیں۔
- کسٹمز ڈاک کے عملے کی موجودگی میں پارسل کھول کر ڈیوٹی لگاتا ہے، اور ضرورت ہو تو آپ سے انوائس مانگ سکتا ہے۔ غلط بیان یا کم قیمت والا پارسل روکا جاتا ہے۔
- ڈاکیا پارسل دیتے وقت لگائی گئی ڈیوٹی آپ سے وصول کرتا ہے۔ پاکستان پوسٹ کے مطابق وہ صرف کسٹمز کی طرف سے ڈیوٹی وصول کرتا ہے۔
کورئیر سے آنے والا آرڈر
- ای کامرس قواعد (ایس آر او 14(I)/2021) ذاتی استعمال کے آرڈر پر لاگو ہیں۔ رجسٹرڈ کورئیر پہلے سے مینی فیسٹ اور آپ کی طرف سے گڈز ڈیکلریشن ویبوک پر جمع کراتا ہے۔
- کورئیر آپ سے چیز کی تفصیل، قیمت اور شناختی کارڈ نمبر مانگتا ہے؛ درست معلومات دیں کیونکہ غلط ڈیکلریشن پر آپ اور کورئیر دونوں ذمہ دار ہیں۔
- ڈیوٹی آپ پی ایس آئی ڈی سے خود ادا کر سکتے ہیں یا کورئیر کے ذریعے؛ کورئیر کی اپنی ہینڈلنگ فیس الگ ہو سکتی ہے۔ رسید سنبھال کر رکھیں۔
موبائل فون
آن لائن منگوایا فون عام پارسل نہیں۔ کسٹمز جنرل آرڈر 01 بابت 2024 کے مطابق ڈاک یا کورئیر سے آیا فون اسی وقت چھوڑا جاتا ہے جب آپ ڈربس پر درخواست دے کر بنے پی ایس آئی ڈی سے ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کریں، اور جعلی یا چوری کے آئی ایم ای آئی والا فون ضبط ہو جاتا ہے۔ رقم پی ٹی اے ٹیکس کیلکولیٹر سے اور طریقہ پی ٹی اے رجسٹریشن میں دیکھیں۔
آرڈر سے پہلے کی فہرست
- ترسیل سمیت کل قیمت روپوں میں نکالیں؛ 1,000 روپے سے اوپر ہے تو اوپر والی ٹیبل سے ٹیکس جوڑیں۔
- کارڈ سے ادائیگی پر بینک 0.5% ایڈوانس ٹیکس الگ لیتا ہے (نان فائلر 1%)۔
- دکان والے سے کہیں کہ انوائس پر درست قیمت اور تفصیل لکھے۔ غلط قیمت لکھوانا پارسل رکوانے کا سب سے عام سبب ہے۔
- دوائیں، ہتھیار نما اشیا یا دیگر ممنوعہ و پابندی والی چیزیں درآمدی پالیسی کے تحت الگ قواعد رکھتی ہیں؛ ہم نے ان کی تفصیل یہاں نہیں جانچی۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا بیرونِ ملک سے آنے والے پارسل کی کوئی ڈیوٹی فری حد ہے؟
صرف 1,000 روپے۔ کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 19C کے مطابق ڈاک یا کورئیر سے آنے والے 1,000 روپے تک کے سامان پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ فنانس ایکٹ 2025 نے یہ حد 5,000 روپے سے کم کی، اور فنانس ایکٹ 2026 نے اسے نہیں بدلا۔ کسٹمز پھر بھی قیمت جانچنے کے لیے پارسل کھول سکتا ہے۔
پارسل کی ڈیوٹی کون وصول کرتا ہے؟
ڈاک کے پارسل پر کسٹمز جی پی او کے فارن پارسل دفتر میں ڈیوٹی لگاتا ہے اور پاکستان پوسٹ پارسل دیتے وقت آپ سے وصول کرتا ہے۔ کورئیر کی ای کامرس ترسیل پر کورئیر ڈیکلریشن جمع کراتا ہے اور آپ ڈیوٹی یا تو پی ایس آئی ڈی سے خود یا کورئیر کے ذریعے ادا کرتے ہیں۔
کیا آرڈر کو کئی پارسلوں میں بانٹ کر ڈیوٹی سے بچا جا سکتا ہے؟
ایک ہزار روپے کی حد ہر پارسل کی قیمت پر ہے، مگر کسٹمز کوئی بھی پارسل کھول کر روک سکتا ہے، اور ای کامرس قواعد کے تحت غلط ڈیکلریشن پر کورئیر بھی مشترکہ ذمہ دار ہے۔ بڑا آرڈر حد سے نیچے رکھنے کے لیے توڑنے میں پارسل رکنے اور جرمانے کا خطرہ ہے۔
کیا کارڈ سے ادائیگی پر الگ ٹیکس ہے؟
جی ہاں۔ غیر ملکی ویب سائٹ کو کارڈ سے ادائیگی پر بینک دفعہ 236Y کے تحت باہر جانے والی رقم پر 0.5% ایڈوانس انکم ٹیکس لیتا ہے (نان فائلر 1%)۔ یہ ریٹرن میں ایڈجسٹ ہوتا ہے۔ دیکھیں بینکنگ ود ہولڈنگ ٹیکس۔
آن لائن منگوائے گئے فون کا کیا ہوتا ہے؟
ڈاک یا کورئیر سے آیا فون کسٹمز تب ہی چھوڑتا ہے جب آپ پی ٹی اے کے ڈربس سسٹم سے بنے پی ایس آئی ڈی کے ذریعے ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کر دیں۔ طریقہ ہماری پی ٹی اے رجسٹریشن رہنمائی میں ہے اور رقم پی ٹی اے ٹیکس کیلکولیٹر بتاتا ہے۔
اس رہنمائی کے کیلکولیٹر
- کسٹمز ڈیوٹی کیلکولیٹر2026-27 میں پاکستان درآمد کیے گئے سامان پر کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس معلوم کریں، کوریئر پارسل سے لیپ ٹاپ اور جوتوں تک۔
- پی ٹی اے ٹیکس کیلکولیٹردرآمد شدہ فون کا 2026-27 کا پی ٹی اے (ڈربس) ٹیکس پاسپورٹ یا شناختی کارڈ پر معلوم کریں: کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ہینڈ سیٹ لیوی۔
- کرنسی کنورٹرپاکستانی روپے کو امریکی ڈالر، سعودی ریال، اماراتی درہم، پاؤنڈ اور یورو میں اور ان سے روپے میں اپنے ملنے والے ریٹ پر بدلیں، اسٹیٹ بینک کے حوالہ ریٹ کے ساتھ۔
- رعایت کیلکولیٹررعایت کے بعد قیمت اور اپنی بچت معلوم کریں، ”فلیٹ 50 فیصد + مزید 20 فیصد“ والی سیل اور رعایت کے بعد اختیاری جی ایس ٹی سمیت۔
ذرائع
- کسٹمز ایکٹ 1969، 30 جون 2026 تک ترمیم شدہ (ایف بی آر): دفعات 19C، 25، 144، 145
- فنانس ایکٹ 2025، دفعہ 4(8): ڈاک یا کورئیر کے لیے دفعہ 19C کی حد 5,000 سے 1,000 روپے
- کسٹمز رولز 2001، 31 اگست 2025 تک (ایف بی آر): باب 16 پارسل قواعد 364 تا 376 اور باب 34 کم قیمت سامان کے قواعد 781 تا 788
- ایس آر او 14(I)/2021، 6 جنوری 2021: ای کامرس درآمد و برآمد کے قواعد
- پاکستان کسٹمز ٹیرف 2026-27 (ایف بی آر): ہر ٹیرف ہیڈنگ کی کسٹمز ڈیوٹی
- ایس آر او 1063(I)/2026، 30 جون 2026: اضافی کسٹمز ڈیوٹی
- ایس آر او 1064(I)/2026، 30 جون 2026: ریگولیٹری ڈیوٹی
- سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، 30 جون 2026 تک (ایف بی آر): دفعات 2(46)(d) اور 3(1)(b)
- انکم ٹیکس آرڈیننس 2001: دفعات 148 اور 236Y؛ ایف بی آر ود ہولڈنگ ٹیکس ریٹ کارڈ ٹیکس سال 2027 (بارہواں شیڈول حصہ سوم 5.5% / 11%)
- ایف بی آر کسٹمز جنرل آرڈر 01 بابت 2024: ڈاک یا کورئیر سے آنے والے موبائل فون
- پاکستان پوسٹ: کسٹمز معائنے والی ڈاک
- ٹیبل کے کل اعداد پاک حساب کا حساب ہیں (فائلر، اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹی سیلز ٹیکس کی بنیاد میں شامل)؛ حتمی رقم کسٹمز کی اسیسمنٹ ہے
یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔