ہوم ‹ ٹیکس اور تنخواہ

پراویڈنٹ فنڈ کیلکولیٹر پاکستان

اندازہ لگائیں کہ ریٹائرمنٹ یا نوکری چھوڑنے پر آپ کے منظور شدہ پراویڈنٹ فنڈ میں کتنی رقم ہو گی: آپ کا حصہ، آجر کا حصہ، منافع، اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قابلِ ٹیکس حصہ۔

روپے
کنٹری بیوشن بنیادی تنخواہ کا فیصد ہوتا ہے، اور اگر ملازمت کی شرائط میں ہو تو مہنگائی الاؤنس بھی شامل ہوتا ہے۔ دیگر الاؤنسز شامل نہیں ہوتے۔
%
زیادہ تر نجی ادارے ⁦8.33%⁩ (سال میں ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ) یا ⁦10%⁩ رکھتے ہیں۔ اپنے فنڈ کے قواعد دیکھیں۔
%
%
%
پہلے سے درج شرح ⁦2025-26⁩ کے لیے وفاقی جی پی فنڈ کی شرح (⁦12.05%⁩) ہے۔ کمپنی کا فنڈ اپنی سرمایہ کاری کے مطابق منافع دیتا ہے؛ اس کی پچھلی اعلان کردہ شرح درج کریں۔
سال
روپے

آخر میں پراویڈنٹ فنڈ کا بیلنس

37,480,327 روپے

20 سال بعد، ⁦12.05%⁩ منافع پر

آپ کا حصہ ⁦18%⁩آجر کا حصہ ⁦18%⁩جمع شدہ منافع ⁦63%⁩

آپ کا حصہ6,873,000 روپے
آجر کا حصہ6,873,000 روپے
جمع شدہ منافع23,734,327 روپے
آخری بیلنس37,480,327 روپے
تنخواہ کے 10 فیصد یا ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد آجر کا حصہ3,925,800 روپے
تنخواہ کے ایک تہائی سے زائد منافع4,837,920 روپے
قابلِ ٹیکس حصہ (انہی سالوں کی تنخواہ میں شامل)8,763,720 روپے
سال بہ سال جدول
سالسالانہ بنیادی تنخواہکنٹری بیوشنمنافعبیلنس
11,200,000 روپے240,000 روپے15,665 روپے255,665 روپے
21,320,000 روپے264,000 روپے48,039 روپے567,704 روپے
31,452,000 روپے290,400 روپے87,363 روپے945,467 روپے
41,597,200 روپے319,440 روپے134,779 روپے1,399,686 روپے
51,756,920 روپے351,384 روپے191,597 روپے1,942,667 روپے
61,932,612 روپے386,522 روپے259,320 روپے2,588,510 روپے
72,125,873 روپے425,175 روپے339,667 روپے3,353,351 روپے
82,338,461 روپے467,692 روپے434,605 روپے4,255,649 روپے
92,572,307 روپے514,461 روپے546,385 روپے5,316,495 روپے
102,829,537 روپے565,907 روپے677,575 روپے6,559,978 روپے
113,112,491 روپے622,498 روپے831,108 روپے8,013,584 روپے
123,423,740 روپے684,748 روپے1,010,331 روپے9,708,663 روپے
133,766,114 روپے753,223 روپے1,219,057 روپے11,680,943 روپے
144,142,725 روپے828,545 روپے1,461,633 روپے13,971,122 روپے
154,556,998 روپے911,400 روپے1,743,008 روپے16,625,529 روپے
165,012,698 روپے1,002,540 روپے2,068,813 روپے19,696,882 روپے
175,513,968 روپے1,102,794 روپے2,445,455 روپے23,245,130 روپے
186,065,364 روپے1,213,073 روپے2,880,216 روپے27,338,419 روپے
196,671,901 روپے1,334,380 روپے3,381,376 روپے32,054,175 روپے
207,339,091 روپے1,467,818 روپے3,958,334 روپے37,480,327 روپے

مکمل کیلکولیٹر پاک حساب پر کھولیں ↗

پراویڈنٹ فنڈ کیسے بڑھتا ہے

پراویڈنٹ فنڈ ریٹائرمنٹ کی بچت ہے جس میں ہر ماہ آپ کی بنیادی تنخواہ سے ایک مقررہ فیصد کٹتا ہے اور آجر بھی (عموماً) اتنا ہی حصہ ڈالتا ہے۔ ٹرسٹی یہ رقم سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں اور سال میں ایک بار منافع آپ کے کھاتے میں جمع کرتے ہیں۔ چونکہ منافع پر بھی اگلے سال منافع ملتا ہے، اس لیے طویل ملازمت میں فنڈ کا بڑا حصہ منافع سے بنتا ہے، کنٹری بیوشن سے نہیں۔

  1. ہر سال کی بنیادی تنخواہ = ماہانہ بنیادی تنخواہ × 12، اور ہر نئے سال میں متوقع اضافے کے ساتھ۔
  2. آپ کا اور آجر کا حصہ = سالانہ بنیادی تنخواہ × اپنا اپنا فیصد۔
  3. منافع = شرح × (سال کے شروع کا بیلنس + اس سال کا کنٹری بیوشن × ⁦6.5 ÷ 12⁩)۔ ماہانہ کٹوتی اوسطاً ساڑھے 6 ماہ فنڈ میں رہتی ہے۔
  4. سال کے آخر کا بیلنس اگلے سال کا ابتدائی بیلنس بنتا ہے۔

مثال: بنیادی تنخواہ 100,000 روپے ماہانہ، دونوں کا حصہ ⁦10%⁩، سالانہ اضافہ ⁦10%⁩، منافع ⁦12.05%⁩، 20 سال۔ پہلے سال آپ اور آجر دونوں 120,000 روپے ڈالتے ہیں اور منافع 15,665 روپے بنتا ہے۔ 20 سال بعد فنڈ میں 37,480,327 روپے ہوں گے: آپ کا حصہ 6,873,000 روپے، آجر کا 6,873,000 روپے اور منافع 23,734,327 روپے۔ اگر دونوں کا حصہ ⁦8.33%⁩ ہو تو یہی رقم 31,221,112 روپے بنتی ہے۔

ٹیکس کا طریقہ (چھٹا شیڈول)

حصہٹیکس
آپ کا حصہٹیکس شدہ تنخواہ سے کٹتا ہے، الگ چھوٹ نہیں
آجر کا حصہتنخواہ کے ⁦10%⁩ یا 150,000 روپے (جو کم ہو) تک مستثنیٰ، زائد اسی سال قابلِ ٹیکس
سالانہ منافعتنخواہ کے ایک تہائی تک مستثنیٰ، زائد اسی سال قابلِ ٹیکس
نوکری چھوڑنے پر پوری رقممستثنیٰ (دوسرا شیڈول، شق 23)

یہاں "تنخواہ" سے مراد بنیادی تنخواہ ہے، اور اگر ملازمت کی شرائط میں ہو تو مہنگائی الاؤنس؛ دیگر الاؤنسز شامل نہیں۔ اوپر کی مثال میں پہلے سال آجر کا حصہ 120,000 روپے حد کے اندر ہے، لیکن 4ویں سال میں تنخواہ کا ⁦10%⁩ ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھ جاتا ہے اور اس کے بعد ڈیڑھ لاکھ سے زائد آجر کا حصہ قابلِ ٹیکس ہے۔ چوتھے سال آجر کا حصہ 159,720 روپے ہے۔ جب بیلنس بڑا ہو جائے تو منافع بھی تنخواہ کے ایک تہائی سے بڑھ سکتا ہے، جیسا کہ اس مثال کے آخری سالوں میں ہوتا ہے۔ قانون میں ایک وفاقی نوٹیفائیڈ شرح سے زیادہ منافع کو بھی قابلِ ٹیکس کہا گیا ہے؛ ہمیں یہ نوٹیفکیشن نہیں ملا، اس لیے یہ کیلکولیٹر وہ حد نہیں لگاتا۔ یہ کیلکولیٹر قابلِ ٹیکس رقم بتاتا ہے، اس پر ٹیکس آپ کی سلیب کے مطابق ہو گا۔

سرکاری جی پی فنڈ

سرکاری ملازمین کا جنرل پراویڈنٹ فنڈ پراویڈنٹ فنڈز ایکٹ 1925 کے تحت ہے اور صرف ملازم کی ماہانہ کٹوتی سے بنتا ہے۔ اس کی شرحِ منافع فنانس ڈویژن ہر سال قرارداد کے ذریعے مقرر کرتا ہے: ⁦2023-24⁩ میں ⁦13.97%⁩، ⁦2024-25⁩ میں ⁦12.46%⁩ اور ⁦2025-26⁩ میں ⁦12.05%⁩۔ ریلوے اور دفاع کے فنڈز کی ہدایات یہ وزارتیں الگ جاری کرتی ہیں۔ جی پی فنڈ کی ادائیگی مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔

رقم نکلوانے کے قواعد

یہ اندازہ ہر سال یکساں اضافے اور یکساں شرحِ منافع پر مبنی ہے؛ اصل منافع ہر سال بدلتا ہے۔ اپنے فنڈ کا سالانہ اسٹیٹمنٹ دیکھ کر ابتدائی بیلنس اور شرح درج کریں تو اندازہ زیادہ درست ہو گا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم اور آجر کتنا حصہ ڈالتے ہیں؟

نجی اداروں کے لیے کوئی قانون شرح مقرر نہیں کرتا؛ یہ فنڈ کے قواعد طے کرتے ہیں۔ عام طور پر ملازم اور آجر دونوں بنیادی تنخواہ کا ⁦8.33%⁩ (سال میں ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ) یا ⁦10%⁩ دیتے ہیں۔ ایف بی آر سے منظور شدہ رہنے کے لیے کسی سال میں آجر کا حصہ ملازم کے حصے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

کیا پراویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس لگتا ہے؟

نوکری چھوڑنے پر ملنے والی رقم ٹیکس سے مستثنیٰ ہے (دوسرا شیڈول، شق 23)۔ لیکن ہر سال آجر کا وہ حصہ جو تنخواہ کے ⁦10%⁩ یا ڈیڑھ لاکھ روپے (جو کم ہو) سے زیادہ ہو، اور تنخواہ کے ایک تہائی سے زیادہ منافع، اسی سال کی قابلِ ٹیکس تنخواہ میں شامل ہوتا ہے (چھٹا شیڈول، قاعدہ 3)۔ آپ کا اپنا حصہ پہلے ہی ٹیکس شدہ تنخواہ سے کٹتا ہے۔

جی پی فنڈ پر کتنا منافع ملتا ہے؟

فنانس ڈویژن نے ⁦2025-26⁩ کے لیے ⁦12.05%⁩ سالانہ شرح مقرر کی (3 ستمبر 2026 کی قرارداد)، جو ⁦2024-25⁩ میں ⁦12.46%⁩ تھی۔ یہ شرح سال ختم ہونے کے بعد اعلان ہوتی ہے۔ کمپنیوں کے پراویڈنٹ فنڈ اپنی سرمایہ کاری کی آمدنی سے اپنی شرح طے کرتے ہیں۔

کیا نوکری چھوڑنے سے پہلے پراویڈنٹ فنڈ نکلوایا جا سکتا ہے؟

بیلنس اسی دن قابلِ ادائیگی ہوتا ہے جب آپ اس آجر کی ملازمت چھوڑتے ہیں۔ اس سے پہلے منظور شدہ فنڈ صرف ایف بی آر کے قواعد میں دی گئی صورتوں اور حدود میں ادائیگی کر سکتا ہے، جن کے تحت بہت سے فنڈ عارضی قرض یا جزوی رقم دیتے ہیں۔ نئے آجر کے پاس بھی منظور شدہ فنڈ ہو تو بیلنس وہاں منتقل ہو سکتا ہے اور ٹیکس سے مستثنیٰ رہتا ہے۔

اگر میں استعفیٰ دوں تو کیا آجر اپنا حصہ رکھ سکتا ہے؟

صرف اسی صورت میں جب فنڈ کے قواعد میں ایسا لکھا ہو اور آپ ان میں مقرر مدت سے پہلے نوکری چھوڑیں، یا آپ کو بدانتظامی پر برطرف کیا جائے۔ تب بھی آجر صرف اپنا حصہ اور اس پر منافع واپس لے سکتا ہے۔ آپ کا اپنا حصہ اور اس کا منافع ہر حال میں آپ کا ہے۔

کیا یہ سرکاری جی پی فنڈ کے لیے بھی کام کرتا ہے؟

ہاں۔ آجر کا حصہ 0 رکھیں، کیونکہ جی پی فنڈ آپ کی اپنی ماہانہ کٹوتی سے بنتا ہے، اور جی پی فنڈ کی شرح استعمال کریں۔ پراویڈنٹ فنڈز ایکٹ 1925 کے تحت فنڈ (جیسے جی پی فنڈ) سے ادائیگی مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے (دوسرا شیڈول، شق 22)، اس لیے چھٹے شیڈول کی حدیں لاگو نہیں ہوتیں۔

رہنمائی

متعلقہ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر اپنی ویب سائٹ پر لگائیں

بلاگز، فورمز اور کاروباری ویب سائٹس کے لیے مفت۔ یہ کوڈ وہاں لگائیں جہاں کیلکولیٹر دکھانا ہو۔ یہ خود بخود اپ ڈیٹ رہتا ہے۔

ذرائع

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔