پاکستان میں تنخواہ دار افراد کے انکم ٹیکس سلیب 2026-27، آسان وضاحت
تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←
2026-27 (ٹیکس سال 2027) میں 6 لاکھ روپے سالانہ، یعنی 50 ہزار روپے ماہانہ تک کی تنخواہ پر کوئی انکم ٹیکس نہیں۔ اس سے اوپر شرح 1% سے شروع ہو کر 70 لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدنی پر 35% تک جاتی ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 نے درمیانے سلیبوں کی شرحیں کم کیں اور زیادہ تنخواہوں پر 9% سرچارج ختم کر دیا۔
تنخواہ دار افراد کے ٹیکس سلیب 2026-27
یہ شرحیں انکم ٹیکس آرڈیننس کے پہلے شیڈول (حصہ اول، ڈویژن اول، شق 2) میں ہیں اور یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک کی تنخواہ پر لاگو ہیں۔
| سالانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ | سالانہ ٹیکس |
|---|---|
| 0 روپے سے 600,000 روپے تک | کوئی ٹیکس نہیں |
| 600,001 روپے سے 1,200,000 روپے تک | 600,000 روپے سے زائد رقم کا 1% |
| 1,200,001 روپے سے 2,200,000 روپے تک | 6,000 روپے + 1,200,000 روپے سے زائد رقم کا 11% |
| 2,200,001 روپے سے 3,200,000 روپے تک | 116,000 روپے + 2,200,000 روپے سے زائد رقم کا 20% |
| 3,200,001 روپے سے 4,100,000 روپے تک | 316,000 روپے + 3,200,000 روپے سے زائد رقم کا 25% |
| 4,100,001 روپے سے 5,600,000 روپے تک | 541,000 روپے + 4,100,000 روپے سے زائد رقم کا 29% |
| 5,600,001 روپے سے 7,000,000 روپے تک | 976,000 روپے + 5,600,000 روپے سے زائد رقم کا 32% |
| 7,000,000 روپے سے زائد | 1,424,000 روپے + 7,000,000 روپے سے زائد رقم کا 35% |
یہ سلیب صرف اس شخص پر لاگو ہوتے ہیں جس کی تنخواہ اس کی کل قابلِ ٹیکس آمدنی کے 75% سے زیادہ ہو۔ اگر کرائے، کاروبار یا فری لانسنگ کی آمدنی اس سے زیادہ ہو تو غیر تنخواہ دار افراد کے سلیب لگتے ہیں، جن کی شرحیں زیادہ ہیں۔
سلیب ٹیکس کا حساب کیسے ہوتا ہے
سب سے عام غلط فہمی یہ ہے کہ اگلے سلیب میں جاتے ہی پوری تنخواہ پر زیادہ شرح لگ جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ہر سلیب میں ایک مقررہ رقم ہوتی ہے جو نیچے والے سلیبوں کا ٹیکس ہے، اور سلیب کی شرح صرف اس حصے پر لگتی ہے جو اس سلیب کی ابتدائی حد سے اوپر ہو۔
- ماہانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ کو 12 سے ضرب دے کر سالانہ تنخواہ نکالیں۔
- اوپر کے ٹیبل میں دیکھیں کہ یہ رقم کس سلیب میں آتی ہے۔
- سالانہ ٹیکس = سلیب کی مقررہ رقم + (سالانہ تنخواہ − سلیب کی ابتدائی حد) × سلیب کی شرح۔
- ماہانہ کٹوتی کے لیے سالانہ ٹیکس کو 12 پر تقسیم کریں۔
حل شدہ مثالیں
1 لاکھ روپے ماہانہ
سالانہ تنخواہ 12 لاکھ روپے ہے، جو 1% والے سلیب میں آتی ہے: 1% × (1,200,000 − 600,000) = 6,000 روپے سالانہ، یعنی 500 روپے ماہانہ۔ پچھلے سال بھی اتنا ہی تھا۔
2 لاکھ روپے ماہانہ
سالانہ تنخواہ 24 لاکھ روپے ہے، جو 20% والے سلیب میں آتی ہے: 116,000 + 20% × (2,400,000 − 2,200,000) = 156,000 روپے سالانہ، یعنی 13,000 روپے ماہانہ۔ 2025-26 میں اسی سلیب کی شرح 23% تھی اور ٹیکس 13,500 روپے ماہانہ تھا، یعنی اب 500 روپے ماہانہ کی بچت ہے۔
5 لاکھ روپے ماہانہ
سالانہ تنخواہ 60 لاکھ روپے ہے، جو 32% والے سلیب میں آتی ہے: 976,000 + 32% × (6,000,000 − 5,600,000) = 1,104,000 روپے سالانہ، یعنی 92,000 روپے ماہانہ۔ یہ کل تنخواہ کا تقریباً 18.4% ہے، 32% نہیں۔ 2025-26 میں یہی تنخواہ 106,750 روپے ماہانہ ٹیکس دیتی تھی۔
عام تنخواہوں پر ٹیکس: 2026-27 اور 2025-26
| ماہانہ تنخواہ | ماہانہ ٹیکس 2026-27 | ماہانہ ٹیکس 2025-26 | ہاتھ میں آنے والی تنخواہ |
|---|---|---|---|
| 50,000 روپے | 0 روپے | 0 روپے | 50,000 روپے |
| 100,000 روپے | 500 روپے | 500 روپے | 99,500 روپے |
| 150,000 روپے | 6,000 روپے | 6,000 روپے | 144,000 روپے |
| 200,000 روپے | 13,000 روپے | 13,500 روپے | 187,000 روپے |
| 300,000 روپے | 34,667 روپے | 38,833 روپے | 265,333 روپے |
| 500,000 روپے | 92,000 روپے | 106,750 روپے | 408,000 روپے |
| 1,000,000 روپے | 264,500 روپے | 307,108 روپے | 735,500 روپے |
غور کریں کہ مؤثر شرح، یعنی کل ٹیکس کو تنخواہ پر تقسیم کرنے سے نکلنے والی شرح، سب سے اوپر والے سلیب کی شرح سے کافی کم رہتی ہے۔ 2 لاکھ روپے ماہانہ پر یہ 6.5%، 5 لاکھ روپے پر 18.4% اور 10 لاکھ روپے ماہانہ پر بھی تقریباً 26.5% ہے، 35% نہیں۔ ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تک کی تنخواہوں پر ٹیکس پچھلے سال جتنا ہی ہے، کیونکہ پہلے تین سلیب نہیں بدلے۔
اپنی تنخواہ کا درست حساب تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹر سے کریں۔
2025-26 کے مقابلے میں کیا بدلا
- 6 لاکھ روپے کی مستثنیٰ حد اور پہلے تین سلیب (0%، 1% اور 11%) وہی ہیں۔
- 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے والے سلیب کی شرح 23% سے کم ہو کر 20% ہو گئی۔
- 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے والے سلیب کی شرح 30% سے 25% ہو گئی۔
- پہلے 35% کی شرح 41 لاکھ روپے سے شروع ہوتی تھی۔ اب 41 سے 56 لاکھ پر 29%، 56 سے 70 لاکھ پر 32% اور صرف 70 لاکھ روپے سے زائد پر 35% ہے۔
- ایک کروڑ روپے سے زائد آمدنی والے تنخواہ دار افراد پر 9% سرچارج ختم ہو گیا۔
| سالانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ (2025-26) | سالانہ ٹیکس |
|---|---|
| 0 روپے سے 600,000 روپے تک | کوئی ٹیکس نہیں |
| 600,001 روپے سے 1,200,000 روپے تک | 600,000 روپے سے زائد رقم کا 1% |
| 1,200,001 روپے سے 2,200,000 روپے تک | 6,000 روپے + 1,200,000 روپے سے زائد رقم کا 11% |
| 2,200,001 روپے سے 3,200,000 روپے تک | 116,000 روپے + 2,200,000 روپے سے زائد رقم کا 23% |
| 3,200,001 روپے سے 4,100,000 روپے تک | 346,000 روپے + 3,200,000 روپے سے زائد رقم کا 30% |
| 4,100,000 روپے سے زائد | 616,000 روپے + 4,100,000 روپے سے زائد رقم کا 35% |
سرچارج
دفعہ 4AB کے تحت ایک کروڑ روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدنی والے افراد اور اے او پی پر سلیب ٹیکس کا 10% سرچارج لگتا ہے۔ 2025-26 میں تنخواہ دار افراد کے لیے یہ شرح 9% تھی۔ فنانس ایکٹ 2026 کے بعد تنخواہ کی آمدنی والے فرد پر کوئی سرچارج نہیں۔ مثلاً 10 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر اب 264,500 روپے ماہانہ ٹیکس ہے، جبکہ پچھلے سال سرچارج سمیت تقریباً 307,108 روپے تھا۔
اپنی پے سلپ کی کٹوتی کیسے جانچیں
دفعہ 149 کے تحت آپ کا ادارہ ہر تنخواہ پر آپ کی پورے سال کی متوقع تنخواہ کی اوسط شرح سے ٹیکس کاٹتا ہے، اور سال کے دوران پچھلے مہینوں کی کمی بیشی بھی پوری کرتا ہے۔
- پے سلپ پر قابلِ ٹیکس تنخواہ دیکھیں۔ یہ ضروری نہیں کہ کل تنخواہ کے برابر ہو، کیونکہ کچھ مدیں مستثنیٰ ہو سکتی ہیں۔
- اسے 12 سے ضرب دیں (یا سال میں متوقع بونس بھی شامل کریں) اور اوپر کے طریقے سے سالانہ ٹیکس نکالیں۔
- 12 پر تقسیم کر کے پے سلپ کی انکم ٹیکس والی لائن سے ملائیں۔
- فرق ہو تو وجہ دیکھیں: سال کے بیچ میں ملازمت شروع کرنا، تنخواہ میں اضافہ یا بونس، پچھلے ادارے کی تنخواہ، یا ٹیکس کریڈٹ (مثلاً دفعہ 61 کے تحت عطیات یا دفعہ 63 کے تحت پنشن فنڈ)، جو ادارہ ثبوت دینے پر ہی ایڈجسٹ کرتا ہے۔
- سال کے آخر میں ادارے سے کٹوتی کا سرٹیفکیٹ (دفعہ 164) لیں اور ریٹرن میں اسی کے مطابق کاٹا گیا ٹیکس درج کریں۔
عام غلطیاں
- یہ سمجھنا کہ اگلے سلیب میں جانے سے پوری تنخواہ پر زیادہ شرح لگتی ہے۔
- قابلِ ٹیکس تنخواہ کی بجائے کل تنخواہ پر حساب لگانا۔
- کرائے یا فری لانس آمدنی ہونے کے باوجود تنخواہ دار سلیب استعمال کرنا۔ دیکھیں کرائے کی آمدنی پر ٹیکس کیلکولیٹر اور فری لانسر ٹیکس کیلکولیٹر۔
- یہ سوچ کر ریٹرن فائل نہ کرنا کہ ٹیکس پہلے ہی کٹ چکا ہے۔ ریٹرن ہر سال 30 ستمبر تک جمع ہوتا ہے (ٹیکس سال 2026 کے لیے ایف بی آر نے یہ تاریخ 15 اکتوبر 2026 تک بڑھائی)، اور دیر سے ریٹرن پر جرمانہ لگتا ہے اور اے ٹی ایل میں نام بھی دیر سے آتا ہے۔ دیکھیں فائلر کیسے بنیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
2026-27 میں ٹیکس سے مستثنیٰ تنخواہ کی حد کیا ہے؟
2026-27 میں 6 لاکھ روپے سالانہ (50 ہزار روپے ماہانہ) تک قابلِ ٹیکس تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 0% ہے۔ یہ حد 2025-26 جتنی ہی ہے۔
اگر تنخواہ اگلے سلیب میں چلی جائے تو کیا پوری تنخواہ پر زیادہ شرح لگتی ہے؟
نہیں۔ ہر سلیب میں نیچے والی آمدنی کے لیے ایک مقررہ رقم ہوتی ہے، اور زیادہ شرح صرف اس حصے پر لگتی ہے جو سلیب کی ابتدائی حد سے اوپر ہو۔ تنخواہ بڑھنے سے ہاتھ میں آنے والی رقم کبھی کم نہیں ہوتی۔
کیا زیادہ تنخواہوں پر اب بھی سرچارج ہے؟
نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 نے دفعہ 4AB میں ترمیم کر دی ہے کہ تنخواہ کی آمدنی والے فرد پر کوئی سرچارج نہیں ہوگا۔ 2025-26 میں ایک کروڑ روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدنی والے تنخواہ دار افراد 9% سرچارج دیتے تھے۔ دیگر افراد اور اے او پی پر ایک کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر 10% سرچارج بدستور ہے۔
میرا ادارہ ہر ماہ ٹیکس کاٹتا ہے، کیا پھر بھی ریٹرن فائل کرنا ضروری ہے؟
جی ہاں، اگر سال کی قابلِ ٹیکس آمدنی 6 لاکھ روپے سے زیادہ ہو (دفعہ 114)۔ وقت پر ریٹرن فائل کرنے سے آپ کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں رہتا ہے، جس سے جائیداد، گاڑی، بچت اور دیگر چیزوں پر ٹیکس کم لگتا ہے۔ دیکھیں فائلر کیسے بنیں۔
2026-27 اور ٹیکس سال 2027 میں کیا فرق ہے؟
دونوں ایک ہی مدت ہیں۔ ایف بی آر ٹیکس سال کا نام اس کیلنڈر سال پر رکھتا ہے جس میں وہ ختم ہوتا ہے، اس لیے ٹیکس سال 2027 یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک ہے۔ اس کا ریٹرن 30 جون 2027 کے بعد جمع ہوتا ہے۔
میری کرائے یا فری لانس کی آمدنی بھی ہے، کون سے سلیب لگیں گے؟
تنخواہ دار سلیب صرف تب لگتے ہیں جب تنخواہ آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی کے 75% سے زیادہ ہو۔ ورنہ پوری آمدنی پر غیر تنخواہ دار افراد کے زیادہ شرح والے سلیب لگتے ہیں۔ جانچنے کے لیے کرائے کی آمدنی پر ٹیکس کیلکولیٹر یا فری لانسر ٹیکس کیلکولیٹر استعمال کریں۔
اس رہنمائی کے کیلکولیٹر
- تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹربجٹ 2026-27 کے تحت اپنا ماہانہ انکم ٹیکس اور ہاتھ میں آنے والی تنخواہ معلوم کریں، اور دیکھیں کہ 2025-26 کے مقابلے میں کتنی بچت ہوئی۔
- کرائے کی آمدنی پر ٹیکس کیلکولیٹر2026-27 کے لیے مکان، فلیٹ یا دکان کے کرائے پر انکم ٹیکس کا اندازہ لگائیں، مرمت الاؤنس، تنخواہ دار یا غیر تنخواہ دار سلیب اور دفعہ 155 کے تحت کرایہ دار کی کٹوتی سمیت۔
- فری لانسر ٹیکس کیلکولیٹربینک کے ذریعے آنے والی آئی ٹی اور فری لانس برآمدی آمدنی پر حتمی ٹیکس معلوم کریں: پی ایس ای بی رجسٹریشن کے ساتھ 0.25% اور اس کے بغیر 1%، اور عام انکم ٹیکس شرحوں سے موازنہ کریں۔
ذرائع
- انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، 30 جون 2026 تک ترمیم شدہ (ایف بی آر): پہلا شیڈول حصہ اول ڈویژن اول شق (2) تنخواہ دار ٹیبل، دفعات 4AB، 114، 149 اور 164
- ایف بی آر سرکلر نمبر 02 برائے 2026-27 (8 ستمبر 2026): فنانس ایکٹ 2026 کی تنخواہ دار شرحیں اور 9% سرچارج کا خاتمہ (پیرا 7 اور 8)
- ایف بی آر سرکلر نمبر 01 برائے 2025-26: فنانس ایکٹ 2025 کی تنخواہ دار شرحیں (پیرا 5)، موازنے کے لیے
- ایف بی آر سرکلر نمبر 3 برائے 2026-27 (30 ستمبر 2026): ٹیکس سال 2026 کے ریٹرن کی آخری تاریخ 15 اکتوبر 2026 تک توسیع
یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔