ہوم ‹ زکوٰۃ اور وراثت ‹ فوری جوابات

10 تولہ سونے پر کتنی زکوٰۃ ہے؟

10 تولہ سونے پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے؟

10 تولہ سونے پر زکوٰۃ 107,884 روپے ہے، یعنی صرافہ ایسوسی ایشن کے 22 اکتوبر 2026 کے 24 قیراط ریٹ (431,536 روپے فی تولہ) پر اس کی مالیت 4,315,360 روپے کا ⁦2.5%⁩۔

اپنی رقم سے حساب لگائیں ← واٹس ایپ پر بھیجیں

واجب الادا زکوٰۃ

107,884 روپے

آپ کی خالص دولت 319,515 روپے کے نصاب سے زیادہ ہے۔ سونا (431,536 روپے فی تولہ) اور چاندی (6,086 روپے فی تولہ) کے لیے صرافہ ایسوسی ایشن کا 22 اکتوبر 2026 کا ریٹ استعمال کیا گیا ہے۔

سونے کی مالیت4,315,360 روپے
چاندی کی مالیت0 روپے
قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کا مجموعہ4,315,360 روپے
واجبات منہا کرنے کے بعد خالص دولت4,315,360 روپے
نصاب (52.5 تولہ چاندی)319,515 روپے
⁦2.5%⁩ کے حساب سے زکوٰۃ107,884 روپے

حساب کیسے ہوا

  1. سونے کی مالیت = ⁦10 × 431,536⁩ = 4,315,360 روپے
  2. نصاب (52.5 تولہ چاندی) = ⁦52.5 × 6,086⁩ = 319,515 روپے
  3. ⁦2.5%⁩ کے حساب سے زکوٰۃ = ⁦2.5% × 4,315,360⁩ = 107,884 روپے

آپ کے لیے اس کا مطلب

10 تولہ سونا، سونے کے نصاب (7.5 تولہ) سے زیادہ ہے، اس لیے اس پر ایک قمری سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے، چاہے آپ کے پاس کچھ اور ہو یا نہ ہو۔ پوری زکوٰۃ جاننے کے لیے کیلکولیٹر میں اپنی نقدی، بچت اور دیگر اثاثے بھی شامل کریں۔

صرافہ ریٹ خالص 24 قیراط سونے کا ہے۔ زیادہ تر زیورات 22 یا 21 قیراط کے ہوتے ہیں اور زکوٰۃ ان میں موجود سونے پر ہوتی ہے: 10 تولہ 22 قیراط پر یہ 98,894 روپے اور 21 قیراط پر 94,399 روپے بنتی ہے۔ نگینے اور بنوائی شامل نہیں کیے جاتے۔ حنفی مسلک میں، جس پر پاکستان میں اکثریت عمل کرتی ہے، پہنے جانے والے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے۔

زکوٰۃ ادا کرنے والے دن کا ریٹ لیں: سونے کا ریٹ ہر کاروباری دن بدلتا ہے، اور فی تولہ ریٹ میں ہر 1,000 روپے کی تبدیلی سے یہ زکوٰۃ 250 روپے بدل جاتی ہے۔ اگر آپ پر کوئی قرض ہے جو اب ادا کرنا ہے تو زکوٰۃ کا حساب کرنے سے پہلے اسے منہا کر لیں۔

قریبی رقمیں

سونازکوٰۃ
5 تولہ53,942 روپے
7.5 تولہ80,913 روپے
10 تولہ107,884 روپے
15 تولہ161,826 روپے
20 تولہ215,768 روپے

اپنی رقم سے حساب لگائیں ←

ذرائع

شرحیں 23 اکتوبر، 2026 کو جانچی گئیں۔

مزید فوری جوابات

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔