ہوم ‹ زکوٰۃ اور وراثت ‹ فوری جوابات

20 تولہ سونے پر کتنی زکوٰۃ ہے؟

20 تولہ سونے پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے؟

20 تولہ سونے پر زکوٰۃ 215,768 روپے ہے، یعنی صرافہ ایسوسی ایشن کے 22 اکتوبر 2026 کے 24 قیراط ریٹ (431,536 روپے فی تولہ) پر اس کی مالیت 8,630,720 روپے کا ⁦2.5%⁩۔

اپنی رقم سے حساب لگائیں ← واٹس ایپ پر بھیجیں

واجب الادا زکوٰۃ

215,768 روپے

آپ کی خالص دولت 319,515 روپے کے نصاب سے زیادہ ہے۔ سونا (431,536 روپے فی تولہ) اور چاندی (6,086 روپے فی تولہ) کے لیے صرافہ ایسوسی ایشن کا 22 اکتوبر 2026 کا ریٹ استعمال کیا گیا ہے۔

سونے کی مالیت8,630,720 روپے
چاندی کی مالیت0 روپے
قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کا مجموعہ8,630,720 روپے
واجبات منہا کرنے کے بعد خالص دولت8,630,720 روپے
نصاب (52.5 تولہ چاندی)319,515 روپے
⁦2.5%⁩ کے حساب سے زکوٰۃ215,768 روپے

حساب کیسے ہوا

  1. سونے کی مالیت = ⁦20 × 431,536⁩ = 8,630,720 روپے
  2. نصاب (52.5 تولہ چاندی) = ⁦52.5 × 6,086⁩ = 319,515 روپے
  3. ⁦2.5%⁩ کے حساب سے زکوٰۃ = ⁦2.5% × 8,630,720⁩ = 215,768 روپے

آپ کے لیے اس کا مطلب

20 تولہ سونا، سونے کے نصاب (7.5 تولہ) سے زیادہ ہے، اس لیے اس پر ایک قمری سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے، چاہے آپ کے پاس کچھ اور ہو یا نہ ہو۔ پوری زکوٰۃ جاننے کے لیے کیلکولیٹر میں اپنی نقدی، بچت اور دیگر اثاثے بھی شامل کریں۔

صرافہ ریٹ خالص 24 قیراط سونے کا ہے۔ زیادہ تر زیورات 22 یا 21 قیراط کے ہوتے ہیں اور زکوٰۃ ان میں موجود سونے پر ہوتی ہے: 20 تولہ 22 قیراط پر یہ 197,787 روپے اور 21 قیراط پر 188,797 روپے بنتی ہے۔ نگینے اور بنوائی شامل نہیں کیے جاتے۔ حنفی مسلک میں، جس پر پاکستان میں اکثریت عمل کرتی ہے، پہنے جانے والے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے۔

زکوٰۃ ادا کرنے والے دن کا ریٹ لیں: سونے کا ریٹ ہر کاروباری دن بدلتا ہے، اور فی تولہ ریٹ میں ہر 1,000 روپے کی تبدیلی سے یہ زکوٰۃ 500 روپے بدل جاتی ہے۔ اگر آپ پر کوئی قرض ہے جو اب ادا کرنا ہے تو زکوٰۃ کا حساب کرنے سے پہلے اسے منہا کر لیں۔

قریبی رقمیں

سونازکوٰۃ
10 تولہ107,884 روپے
15 تولہ161,826 روپے
20 تولہ215,768 روپے
25 تولہ269,710 روپے
30 تولہ323,652 روپے

اپنی رقم سے حساب لگائیں ←

ذرائع

شرحیں 23 اکتوبر، 2026 کو جانچی گئیں۔

مزید فوری جوابات

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔