پاکستان میں زکوٰۃ کا حساب کیسے لگائیں: نصاب، کن چیزوں پر زکوٰۃ ہے اور ایک مکمل مثال
زکوٰۃ کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←
زکوٰۃ آپ کی خالص قابلِ زکوٰۃ دولت کا 2.5% (چالیسواں حصہ) ہے۔ یہ اس وقت واجب ہوتی ہے جب آپ کی نقدی، بچت، سونا، چاندی اور مالِ تجارت، فوری واجب الادا قرض منہا کرنے کے بعد، نصاب (52.5 تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونے کی قیمت) کے برابر یا زیادہ ہوں اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ اپنا گھر، ذاتی گاڑی اور استعمال کی چیزیں اس حساب میں شامل نہیں ہوتیں۔
نصاب کیا ہے
نصاب دولت کی وہ کم از کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس کے دو پیمانے ہیں: 52.5 تولہ (612.36 گرام) چاندی، یا 7.5 تولہ (87.48 گرام) سونا۔ روپوں میں نصاب جاننے کے لیے اپنے صرافہ بازار کا آج کا فی تولہ نرخ ان مقداروں سے ضرب دیں۔
چاندی سستی ہے، اس لیے چاندی کا نصاب سونے کے نصاب سے کہیں کم بنتا ہے۔ جب آپ کی دولت مختلف چیزوں کا مجموعہ ہو، جیسے نقدی، بینک بیلنس اور کچھ سونا، تو پاکستان میں اکثر علماء چاندی کا نصاب لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہمارا زکوٰۃ کیلکولیٹر بھی اسی کو پہلے سے منتخب رکھتا ہے۔
بینکوں سے زکوٰۃ کی کٹوتی کے لیے حکومت ہر سال الگ رقم مقرر کرتی ہے۔ زکوٰۃ سال 1446-47 ہجری کے لیے یہ نصاب 503,529 روپے تھا، جس کا اطلاق یکم رمضان 1447 ہجری (فروری 2026) کی کٹوتی پر ہوا۔
کن چیزوں پر زکوٰۃ ہے
- نقدی: گھر میں رکھی رقم، کسی بھی کرنسی میں۔
- بینک بیلنس: سیونگز، کرنٹ اور فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹس۔
- سونا اور چاندی: سکے، بسکٹ اور زیورات۔ حنفی مسلک میں پہنے جانے والے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے۔ دھات کی موجودہ قیمت شمار کریں، بنوائی کی اجرت نہیں۔ وزن کو قیمت میں بدلنے کے لیے سونے کا کیلکولیٹر استعمال کریں۔
- مالِ تجارت: دکان کا اسٹاک اور وہ جائیداد یا پلاٹ جو بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو، موجودہ بازاری قیمت پر۔
- قابلِ وصول رقم: وہ قرض جو آپ نے کسی کو دیا ہو اور اس کی واپسی کی توقع ہو۔
- بچت سرٹیفکیٹ اور سرمایہ کاری: قومی بچت کے سرٹیفکیٹ، پرائز بانڈ، شیئرز اور میوچل فنڈز، موجودہ قیمت پر۔
کن چیزوں پر زکوٰۃ نہیں
- وہ گھر جس میں آپ رہتے ہیں۔
- ذاتی گاڑی، موٹر سائیکل، فرنیچر، کپڑے اور گھریلو سامان۔
- کاروبار کے آلات اور مشینری (البتہ بیچنے کے لیے رکھا گیا مال قابلِ زکوٰۃ ہے)۔
- کرائے پر دی گئی جائیداد بذاتِ خود؛ لیکن جو کرایہ جمع ہو کر آپ کے پاس پڑا ہو وہ نقدی میں شامل ہے۔
قرض کیسے منہا کریں
وہ قرض اور بل منہا کریں جو اس وقت ادا کرنے ہیں: ادھار، دکاندار کے واجبات، کمیٹی کی وہ قسط جو واجب ہو چکی ہو، یا بقایا بل۔ ہوم لون یا کار لون جیسے طویل مدتی قرضوں کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں؛ بہت سے علماء صرف اگلے بارہ ماہ کی قسطیں منہا کرنے کو کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی مستند عالم سے پوچھیں۔
قمری سال
زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب نصاب کے برابر دولت پر ایک پورا اسلامی (قمری) سال گزر جائے۔ قمری سال شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک ہجری تاریخ مقرر کر لیں، جیسے یکم رمضان، اور ہر سال اسی دن حساب لگائیں۔ اس دن جو کچھ آپ کی ملکیت میں ہے، اسی پر زکوٰۃ نکالیں۔
ایک مکمل مثال
فرض کریں یکم رمضان کو ایک گھرانے کے پاس یہ کچھ ہے۔ سونے اور چاندی کے نرخ صرف مثال کے لیے ہیں؛ اپنا حساب آج کے نرخ سے لگائیں۔
| چیز | رقم |
|---|---|
| گھر میں نقدی | 100,000 روپے |
| بینک سیونگز اکاؤنٹ | 900,000 روپے |
| 3 تولہ سونا، 450,000 روپے فی تولہ | 1,350,000 روپے |
| ریگولر انکم سرٹیفکیٹ | 500,000 روپے |
| بھائی کو دیا گیا قرض (واپسی متوقع) | 200,000 روپے |
| کل قابلِ زکوٰۃ اثاثے | 3,050,000 روپے |
| منہا: فوری واجب الادا قرض | 150,000 روپے |
| خالص دولت | 2900,000 روپے |
اگر چاندی 9,600 روپے فی تولہ ہو تو نصاب 52.5 × 9,600 = 504,000 روپے بنتا ہے۔ خالص دولت اس سے زیادہ ہے، اس لیے زکوٰۃ 2.5% × 2,900,000 = 72,500 روپے ہے۔
اب فرض کریں اس گھرانے نے CZ-50 جمع نہیں کرایا، تو بینک نے یکم رمضان کو سیونگز اکاؤنٹ سے 2.5% × 900,000 = 22,500 روپے کاٹ لیے۔ باقی 50,000 روپے انہیں خود ادا کرنے ہیں۔
غور کریں: اگر صرف سونے کا نصاب لیا جاتا (7.5 × 450,000 = 3,375,000 روپے) تو یہی دولت نصاب سے کم نظر آتی۔ اسی لیے ملی جلی دولت میں نصاب کا انتخاب اہم ہے۔
یکم رمضان کو بینک کی کٹوتی
زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت بینک یکم رمضان کو سیونگز، پی ایل ایس اور ایسے ہی دیگر اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹ کر اسٹیٹ بینک میں مرکزی زکوٰۃ اکاؤنٹ میں جمع کراتے ہیں۔ اگر اس دن اکاؤنٹ کا بیلنس حکومت کے مقرر کردہ نصاب سے کم ہو تو کٹوتی نہیں ہوتی۔ 2026 میں یہ حد 503,529 روپے تھی اور اگلے سال کی حد رمضان سے پہلے نئے نوٹیفکیشن میں آئے گی۔
قومی بچت کے مطابق ڈیفنس اور اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ سے زکوٰۃ قواعد کے تحت کاٹی جاتی ہے، جبکہ بہبود، ریگولر انکم، شارٹ ٹرم سرٹیفکیٹ اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ کٹوتی سے مستثنیٰ ہیں۔ مستثنیٰ ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ادارہ زکوٰۃ نہیں کاٹتا؛ اس رقم پر زکوٰۃ آپ کو خود ادا کرنی ہے۔ مزید تفصیل قومی بچت اسکیموں کے موازنے میں دیکھیں۔
CZ-50 حلف نامہ کیسے جمع کرائیں
آرڈیننس کی دفعہ 1(3)(a) کے مطابق اس شخص سے لازمی زکوٰۃ نہیں کاٹی جاتی جو یہ حلف نامہ دے کہ وہ مسلمان ہے، کسی تسلیم شدہ فقہ کا پیروکار ہے (جس کا نام حلف نامے میں لکھا جائے) اور اس کا عقیدہ اور فقہ اسے آرڈیننس کے طریقے سے زکوٰۃ دینے کا پابند نہیں کرتے۔
- اپنے بینک یا ادارے سے CZ-50 کا فارمیٹ لیں (کئی بینک اسے اپنی ویب سائٹ پر بھی دیتے ہیں)۔
- نام، شناختی کارڈ نمبر، اکاؤنٹ نمبر اور اپنی فقہ درج کریں۔
- اوتھ کمشنر، نوٹری پبلک یا مجسٹریٹ کے سامنے دو گواہوں کی موجودگی میں اس کی تصدیق کرائیں جو آپ کی شناخت کریں۔ اسٹامپ پیپر کی شرط کے بارے میں اپنے بینک سے پوچھ لیں۔
- اصل یا تصدیق شدہ نقل ہر بینک میں یکم رمضان سے کم از کم 30 دن پہلے جمع کرائیں، اور رسید لے لیں۔ ہر بینک کو الگ حلف نامہ چاہیے۔
یاد رکھیں، CZ-50 زکوٰۃ سے چھٹکارا نہیں؛ اس کا مطلب ہے کہ زکوٰۃ آپ خود حساب لگا کر مستحقین کو ادا کریں گے۔
عام غلطیاں
- سونے کو بنوائی سمیت خریداری کی قیمت پر شمار کرنا۔ آج کی دھات کی قیمت لیں۔
- صرف بینک کی کٹوتی کو پوری زکوٰۃ سمجھ لینا اور نقدی، سونا اور قومی بچت کے سرٹیفکیٹ بھول جانا۔
- بینک کی کٹوتی کو دوبارہ شمار کرنا؛ جو رقم کٹ چکی ہے اسے اپنی کل زکوٰۃ میں سے منہا کریں۔
- پورا ہوم لون منہا کر دینا، جس سے زکوٰۃ بہت کم یا صفر ہو جاتی ہے۔
- ہر سال حساب کی تاریخ بدلنا۔ ایک ہجری تاریخ مقرر رکھیں۔
یہ گائیڈ پاکستان میں عام حنفی رائے کے مطابق ہے اور فتویٰ نہیں۔ کاروباری شراکت، طویل مدتی قرض، پراویڈنٹ فنڈ یا وراثت جیسے پیچیدہ معاملات میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان میں زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
نصاب 52.5 تولہ (612.36 گرام) چاندی یا 7.5 تولہ (87.48 گرام) سونا ہے۔ روپوں میں نصاب جاننے کے لیے اسے آج کے فی تولہ نرخ سے ضرب دیں۔ بینک کٹوتی کے لیے حکومت ہر سال اپنی رقم مقرر کرتی ہے: یکم رمضان 1447 ہجری (2026) کی کٹوتی کے لیے یہ 503,529 روپے تھی۔
چاندی کا نصاب لوں یا سونے کا؟
جب آپ کی دولت نقدی، بچت اور سونے کا مجموعہ ہو تو پاکستان میں اکثر علماء چاندی کا نصاب لینے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ کم ہے اور اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف سونا ہو اور کوئی دوسری قابلِ زکوٰۃ چیز نہ ہو تو بہت سے علماء سونے کا نصاب لگاتے ہیں۔ شک ہو تو کسی عالم سے پوچھیں۔
کیا پہنے جانے والے سونے کے زیور پر زکوٰۃ ہے؟
حنفی مسلک میں، جس پر پاکستان میں اکثر لوگ عمل کرتے ہیں، جی ہاں: سونے اور چاندی کے زیور پر زکوٰۃ ہے چاہے پہنا جائے یا رکھا رہے۔ دھات کی قیمت شمار کریں، بنوائی کی اجرت نہیں۔ دیگر مسالک کی رائے مختلف ہے۔
بینک نے یکم رمضان کو زکوٰۃ کاٹ لی۔ کیا مجھ پر مزید زکوٰۃ ہے؟
ہو سکتی ہے۔ بینک صرف اسی دن اس اکاؤنٹ کے بیلنس کا 2.5% کاٹتا ہے۔ آپ کی پوری زکوٰۃ تمام قابلِ زکوٰۃ دولت پر بنتی ہے، اس لیے پورا حساب لگائیں اور بینک کی کاٹی ہوئی رقم اس میں سے منہا کر دیں۔
بینک کو زکوٰۃ کاٹنے سے کیسے روکیں؟
ہر بینک میں زکوٰۃ کا حلف نامہ (CZ-50) جمع کرائیں، جو اوتھ کمشنر، نوٹری پبلک یا مجسٹریٹ کے سامنے دو گواہوں کی موجودگی میں تصدیق شدہ ہو، اور یکم رمضان سے کم از کم 30 دن پہلے جمع ہو۔ اس کے بعد زکوٰۃ آپ خود ادا کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ ہے؟
جو پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو وہ مالِ تجارت ہے، اس لیے اس کی موجودہ بازاری قیمت پر زکوٰۃ ہے۔ اپنا گھر بنانے کے لیے لیا گیا پلاٹ قابلِ زکوٰۃ نہیں۔ اگر نیت واضح نہ ہو یا بدل گئی ہو تو کسی عالم سے پوچھیں۔
اس رہنمائی کے کیلکولیٹر
- زکوٰۃ کیلکولیٹرسونے، چاندی، نقدی، بینک بچت اور کاروباری مال پر زکوٰۃ کا حساب لگائیں، آج کے چاندی یا سونے کے نرخ کے مطابق نصاب کی جانچ کے ساتھ۔
- سونے کا کیلکولیٹرسونے کو تولہ، گرام، ماشہ اور رتی میں تبدیل کریں اور آج کے نرخ پر 24، 22، 21 یا 18 قیراط کی مالیت معلوم کریں۔
ذرائع
- وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ: زکوٰۃ سال 1446-47 ہجری کے لیے 503,529 روپے نصاب اور کٹوتی کی تاریخ کا نوٹیفکیشن (16 فروری 2026)
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان: BPRD Circular Letter No. 03 of 2026، سیونگز اور پی ایل ایس اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی
- وفاقی شرعی عدالت: شریعت پٹیشن 24-I/1990 (زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کی دفعہ 1(3)(a) کا متن، استثنا کا حلف نامہ)
- قومی بچت کی اسکیموں کے صفحات: سرٹیفکیٹس اور اکاؤنٹس پر زکوٰۃ کا طریقہ
- نصاب: 52.5 تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونا (حنفی فقہ کے روایتی پیمانے، 1 تولہ = 11.664 گرام)
یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔