ہوم ‹ رہنمائی

پاکستان میں سونے کی قیمت کی وضاحت: تولہ، قیراط، بنوائی اور واپسی پر کٹوتی

خلاصہ

صرافہ ریٹ کیسے طے ہوتا ہے، تولہ اور 10 گرام کا فرق، 24، 22 اور 21 قیراط کا حساب، جیولر کا ریٹ مختلف کیوں، بنوائی اور بیچنے پر کتنی رقم واپس ملتی ہے۔

سونے کا کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←

اخبار میں “سونا 431,536 روپے فی تولہ” پڑھ کر جیولر کے پاس جائیں تو اکثر قیمت کچھ اور نکلتی ہے، اور زیور بیچنے جائیں تو اس سے بھی کم۔ یہ فرق دھوکا نہیں بلکہ چند سیدھے حسابوں کا نتیجہ ہے: اکائی (تولہ یا گرام)، خالص پن (قیراط)، بنوائی اور واپسی کی کٹوتی۔ یہ رہنمائی یہ سب ایک ایک کر کے کھولتی ہے، آج کے ریٹ پر حل شدہ مثالوں کے ساتھ۔ آپ اپنے زیور کا حساب سونے کے کیلکولیٹر میں لگا سکتے ہیں۔

روزانہ ریٹ کون طے کرتا ہے

پاکستان میں جو ریٹ خبروں میں آتا ہے وہ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) جاری کرتی ہے۔ یہ 24 قیراط یعنی خالص سونے کا ریٹ ہے، فی تولہ اور فی 10 گرام، بنوائی کے بغیر۔ 22 اکتوبر 2026 کو یہ ریٹ 431,536 روپے فی تولہ اور 369,972 روپے فی 10 گرام تھا، جبکہ چاندی 6,086 روپے فی تولہ۔

یہ ریٹ ہر کاروباری دن بدلتا ہے۔ پچھلے چار ہفتوں میں یہ 449,336 روپے سے کم ہو کر 431,536 روپے پر آیا، یعنی ⁦4%⁩ کی تبدیلی۔ یہ کوئی سرکاری قیمت نہیں بلکہ تاجروں کی تنظیم کا بینچ مارک ہے، اور ہر دکان اس کے گرد اپنا ریٹ رکھتی ہے۔

عالمی قیمت سے صرافہ ریٹ تک

سونا عالمی منڈی میں امریکی ڈالر فی ٹرائے اونس (⁦31.1035⁩ گرام) میں بکتا ہے، اس لیے پاکستان کا ریٹ دو چیزوں پر چلتا ہے: عالمی قیمت اور ڈالر کا ریٹ۔ 14 اکتوبر 2026 کی مثال:

یہ فرق مقامی پریمیم ہے جو روز بدلتا ہے؛ ہم نے اس کی وجوہات کا کوئی سرکاری حساب نہیں دیکھا۔ مگر اصول واضح ہے: عالمی قیمت گرے یا روپیہ مضبوط ہو تو مقامی ریٹ عموماً نیچے آتا ہے، اور الٹ ہو تو اوپر جاتا ہے۔ اسی لیے ایک دن میں ہزاروں روپے کا اتار چڑھاؤ عام بات ہے۔

تولہ، 10 گرام، گرام اور ماشہ

ایک تولہ 180 گرین یعنی 11.6638 گرام کا ہوتا ہے؛ یہ وزن 1833 میں مقرر ہوا اور آج بھی صرافہ بازار کی بنیادی اکائی ہے۔ ایک تولے میں 12 ماشے اور ایک ماشے میں 8 رتیاں ہوتی ہیں۔ 10 گرام کا ریٹ کوئی الگ قیمت نہیں، وہی تولہ ریٹ نئی اکائی میں ہے: ⁦431,536 ÷ 11.6638 × 10⁩ = 369,979 روپے، جبکہ ایسوسی ایشن نے 369,972 روپے بتایا؛ چند روپے کا فرق صرف گول کرنے کا ہے۔

جیولر سے بات کرتے ہوئے پوچھ لیں کہ ریٹ فی تولہ ہے یا فی 10 گرام، اور ترازو کس اکائی میں وزن دکھا رہا ہے۔ بہت سی دکانیں ڈیجیٹل ترازو پر گرام میں وزن کرتی ہیں اور ریٹ تولے میں بتاتی ہیں؛ تبدیلی کا حساب آپ کے سامنے ہونا چاہیے۔

قیراط: خالص پن کا حساب

قیراط بتاتا ہے کہ 24 حصوں میں سے کتنے حصے سونا ہے۔ خالص سونا بہت نرم ہوتا ہے، اس لیے زیور میں دوسری دھات ملا کر 22، 21 یا 18 قیراط بنایا جاتا ہے، جبکہ بسکٹ اور سکے عموماً 24 قیراط کے ہوتے ہیں۔ قیمت سیدھی تناسب سے نکلتی ہے: 24 قیراط ریٹ × قیراط ÷ 24۔ آج کے ریٹ پر:

قیراطخالص پنفی تولہفی 10 گرامفی گرام
24⁦100%⁩431,536 روپے369,979 روپے36,998 روپے
22⁦91.7%⁩395,575 روپے339,147 روپے33,915 روپے
21⁦87.5%⁩377,594 روپے323,731 روپے32,373 روپے
18⁦75%⁩323,652 روپے277,484 روپے27,748 روپے

یعنی ایک تولہ 21 قیراط زیور میں تقریباً 10.21 گرام خالص سونا ہوتا ہے۔ یہ تناسب کا حساب ہے؛ جیولر کم قیراط کا ریٹ اپنا بھی رکھ سکتا ہے، اس لیے پوچھیں کہ وہ کس قیراط کا ریٹ لگا رہا ہے اور رسید پر قیراط لکھوائیں۔

جیولر کا ریٹ صرافہ ریٹ سے مختلف کیوں

بنوائی (مزدوری) کیسے لگتی ہے

بنوائی ڈیزائن اور محنت کی اجرت ہے۔ جیولر اسے یا تو فی تولہ مقررہ رقم کے طور پر لیتے ہیں یا سونے کی مالیت کے فیصد کے طور پر۔ ہلکے سادہ زیور پر کم اور باریک کام والے زیور پر زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی کوئی سرکاری شرح نہیں، اس لیے خریدنے سے پہلے بنوائی کی رقم الگ لکھوائیں۔

مثال: ڈیڑھ تولہ 21 قیراط کا ہار، بنوائی سونے کی مالیت کا ⁦8%⁩ (فرضی شرح):

بیچنے پر کتنا ملتا ہے

واپس خریدتے وقت جیولر سونے کی مالیت میں سے کٹوتی کرتا ہے: کھوٹ کا اندازہ، گھسائی، اور نگینوں یا ٹانکے کا وزن الگ کر کے۔ بنوائی واپس نہیں ملتی۔ اوپر والا ہار اگر اسی ریٹ پر ⁦5%⁩ کٹوتی (فرضی) کے ساتھ بیچا جائے:

اسی لیے بچت کے لیے سونا لینا ہو تو کم بنوائی والا بسکٹ یا سکہ زیور سے سستا پڑتا ہے۔ پرانا زیور بدل کر نیا لینے پر کچھ جیولر کم کٹوتی کرتے ہیں؛ یہ ہر دکان کی اپنی پالیسی ہے۔

خریدنے سے پہلے کی فہرست

سونا اور زکوٰۃ

زیور ہو یا بسکٹ، سونا قابلِ زکوٰۃ مال ہے؛ حساب دھات کی آج کی مالیت پر ہوتا ہے، بنوائی پر نہیں۔ آج کے ریٹ پر سونے کا نصاب (7.5 تولہ) 3,236,520 روپے اور چاندی کا نصاب (52.5 تولہ) 319,515 روپے بنتا ہے۔ کون سا نصاب لیں اور باقی مال کیسے جوڑیں، یہ زکوٰۃ کی رہنمائی میں تفصیل سے ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا فی تولہ اور فی 10 گرام ریٹ ایک ہی ہے؟

نہیں۔ ایک تولہ 11.6638 گرام کا ہوتا ہے، اس لیے 10 گرام ایک تولے کا تقریباً ⁦0.857⁩ حصہ ہیں۔ 22 اکتوبر 2026 کو صرافہ ایسوسی ایشن نے 24 قیراط سونے کا ریٹ 431,536 روپے فی تولہ اور 369,972 روپے فی 10 گرام بتایا: قیمت ایک ہی ہے، بس اکائی الگ ہے۔

22 قیراط سونا 24 قیراط سے سستا کیوں ہے؟

کیونکہ اس میں سونا کم ہوتا ہے۔ 22 قیراط کا مطلب ہے 24 میں سے 22 حصے سونا، یعنی تقریباً ⁦91.7%⁩۔ اس لیے 431,536 روپے کے 24 قیراط ریٹ پر ایک تولہ 22 قیراط کی مالیت تقریباً 395,575 روپے بنتی ہے۔ باقی دھات عموماً تانبا یا چاندی ہوتی ہے جو مضبوطی دیتی ہے مگر قیمت میں تقریباً کچھ نہیں جوڑتی۔

کیا زیور بیچنے پر بنوائی واپس ملتی ہے؟

نہیں۔ بنوائی جیولر کی محنت اور ڈیزائن کی اجرت ہے اور واپس خریدتے وقت کوئی جیولر اسے نہیں لوٹاتا۔ اسی لیے زیور کی شکل میں سونا جمع کرنا مہنگا پڑتا ہے: ہر خرید و فروخت پر بنوائی اور واپسی کی کٹوتی دونوں ضائع ہوتی ہیں۔

کیا سونے کے زیور پر سیلز ٹیکس ہے؟

جی ہاں، کم شرح پر۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے آٹھویں شیڈول کے سیریل ⁦78⁩ کے مطابق ملک میں بنے زیورات (ٹیرف ہیڈنگ ⁦71.13⁩) کی فروخت پر ⁦3%⁩ سیلز ٹیکس ہے اور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ نہیں ہوتا۔ یہ تب لگتا ہے جب جیولر سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہو اور ٹیکس انوائس دے؛ انوائس ضرور مانگیں۔

زکوٰۃ کے لیے سونے کا کون سا ریٹ لیں؟

سونے کی اپنی مالیت، اس کے قیراط کے آج کے ریٹ پر؛ نہ خرید کی قیمت اور نہ بنوائی۔ نصاب اور باقی حساب ہماری زکوٰۃ رہنمائی میں ہے، اور زکوٰۃ کیلکولیٹر یہ حساب خود کر دیتا ہے۔

اس رہنمائی کے کیلکولیٹر

ذرائع

یہ رہنمائی عام معلومات کے لیے قواعد کی وضاحت کرتی ہے، یہ سرکاری، قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذریعہ یا کسی ماہر سے تصدیق کر لیں۔ دیکھیں ہم معلومات کیسے جانچتے ہیں۔

🧮 سونے کا کیلکولیٹر سے حساب لگائیں ←