حساب کیسے ہوا
- سالانہ تنخواہ: 150,000 × 12 = 1,800,000 روپے
- اس سلیب پر ٹیکس: 6,000 + 11% × (1,800,000 − 1,200,000) = 72,000 روپے
- ہاتھ میں آنے والی ماہانہ تنخواہ: (1,800,000 − 72,000) ÷ 12 = 144,000 روپے
- ماہانہ ٹیکس: 72,000 ÷ 12 = 6,000 روپے
آپ کے لیے اس کا مطلب
ٹیکس مہینے کی نہیں بلکہ سال بھر کی تنخواہ پر لگتا ہے۔ سالانہ 1,800,000 روپے اس سلیب میں آتے ہیں جو 1,200,000 روپے سے 2,200,000 روپے تک ہے، جہاں ٹیکس 6,000 روپے جمع 1,200,000 روپے سے زائد رقم کا 11% ہے۔ آپ کا ادارہ اس کا بارہواں حصہ ہر ماہ کاٹتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ آپ کی تنخواہ کا 4% بنتا ہے، حالانکہ آخری روپے پر شرح 11% ہے۔
یہ 2025-26 جتنا ہی ہے: بجٹ 2026-27 نے 11% والا سلیب نہیں بدلا۔ شرحوں میں کمی 2,200,000 روپے سالانہ (183,333 روپے ماہانہ) سے اوپر کی آمدنی پر ہے۔
جب تک آپ کی تنخواہ 183,333 روپے ماہانہ (2,200,000 روپے سالانہ) سے زیادہ نہ ہو، آپ اسی سلیب میں رہیں گے۔ اس سے اوپر 20% کی شرح لگتی ہے، لیکن صرف حد سے زائد حصے پر، اس لیے تنخواہ بڑھنے سے ہاتھ میں آنے والی رقم ہمیشہ بڑھتی ہے۔ اگر تنخواہ کا کچھ حصہ ٹیکس سے مستثنیٰ الاؤنس ہو تو کیلکولیٹر میں صرف قابلِ ٹیکس تنخواہ درج کریں۔
قریبی رقمیں
| ماہانہ تنخواہ | ماہانہ ٹیکس |
|---|---|
| 100,000 روپے | 500 روپے |
| 125,000 روپے | 3,250 روپے |
| 150,000 روپے | 6,000 روپے |
| 175,000 روپے | 8,750 روپے |
| 200,000 روپے | 13,000 روپے |
ذرائع
شرحیں 12 اکتوبر، 2026 کو جانچی گئیں۔
- ایف بی آر سرکلر نمبر 02 برائے 2026-27: فنانس ایکٹ 2026 کے تحت تنخواہ دار افراد کی شرحیں (پیرا 7 اور 8)
- ایف بی آر سرکلر نمبر 01 برائے 2025-26: فنانس ایکٹ 2025 کی شرحیں، موازنے کے لیے
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔