حساب کیسے ہوا
- ڈاؤن پیمنٹ: 30% × 2,000,000 = 600,000 روپے
- قرض کی رقم: 2,000,000 − 600,000 = 1,400,000 روپے
- ماہانہ شرحِ مارک اپ: 15% ÷ 12 = 0.0125
- 60 ماہ کا مرکب اثر: (1 + 0.0125)60 = 2.1072
- ماہانہ قسط: 1,400,000 × 0.0125 × 2.1072 ÷ (2.1072 − 1) = 33,306 روپے
آپ کے لیے اس کا مطلب
پوری مدت میں آپ بینک کو 1,998,354 روپے ادا کریں گے، جس میں 598,354 روپے مارک اپ ہے؛ یوں گاڑی آپ کو کل 2,598,354 روپے کی پڑے گی، یعنی قیمت سے 598,354 روپے زیادہ۔ بینک ہر سال گاڑی کی انشورنس بھی لازمی کرواتے ہیں، اور وہ اور پراسیسنگ فیس اس کے علاوہ ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے قواعد کے تحت ایک شخص تمام بینکوں سے مل کر زیادہ سے زیادہ 3,000,000 روپے کی کار فنانسنگ لے سکتا ہے، کم از کم 30% ڈاؤن پیمنٹ لازمی ہے، 1000cc تک کی گاڑی کے لیے مدت زیادہ سے زیادہ 5 سال اور اس سے بڑی کے لیے 3 سال ہے، اور آپ کی تمام قسطیں آمدنی کے 40% سے زیادہ نہیں ہو سکتیں۔ صرف اس قسط کے لیے کم از کم 83,265 روپے ماہانہ خالص آمدنی چاہیے۔
سب سے بڑا نامعلوم پہلو شرح ہے: بینک کار لون کی شرح کائبور جمع اپنا مارجن رکھتے ہیں، اس لیے موجودہ پیشکش پوچھ لیں۔ 13% پر یہ قسط 31,854 روپے اور 17% پر 34,794 روپے ہو گی۔ 5 کے بجائے 3 سال کی مدت لینے سے قسط 48,531 روپے ہو جاتی ہے لیکن کل مارک اپ کم ہو کر 347,133 روپے رہ جاتا ہے۔
قریبی رقمیں
| گاڑی کی قیمت | ماہانہ قسط |
|---|---|
| 1,500,000 روپے | 24,979 روپے |
| 2,000,000 روپے | 33,306 روپے |
| 2,500,000 روپے | 41,632 روپے |
| 3,000,000 روپے | 49,959 روپے |
| 3,500,000 روپے | 58,285 روپے |
ذرائع
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان: صارفین کی فنانسنگ کے پروڈنشل ریگولیشنز، آٹو فنانس R-11 (30 لاکھ روپے کی حد، 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ، مدت، 40 فیصد قرض کا بوجھ)
- گھٹتے بیلنس (ای ایم آئی) کا معیاری فارمولا
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔